سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 207 of 535

سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل) — Page 207

سيرة النبي علي 207 جلد 1 ظاہر ہورہی تھی۔اور اس طہارت نفس کی طرف متوجہ کر رہا ہے جو آپ کے ہر فعل سے ہو ید اتھی۔دنیا طلبی اور اظہارِ جاہ و جلال کی آگ اُس وقت لوگوں کے دلوں کو جلا رہی تھی اور امراء تو اس کے بغیر امراء ہی نہیں سمجھے جاتے تھے مگر اس آگ میں سے سلامت نکلنے والا صرف وہی ابراہیم کا ایک فرزند تھا جس نے اپنے دادا کا معجزہ اور بھی بڑی شان کے ساتھ دنیا کو دکھایا۔میں نے پچھلے باب میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سادگی کا ذکر کیا ہے کہ آپ کس طرح تکلفات سے محفوظ تھے اور آپ کا ہر ایک فعل اپنے اند ر سادگی اور بے تکلفی کا رنگ رکھتا تھا اب میں آپ کی سادہ زندگی کا حال بیان کرنا چاہتا ہے ہوں۔کھجور اور پانی پر گزارہ جولوگ اس زمانہ کے اراء اور دوسندوں کے دیکھنے کے عادی ہیں وہ تو خیال کرتے ہوں گے کہ رسول الله عے بھی انہی کی طرح عمدہ عمدہ کھانے کھایا کرتے ہوں گے اور ایک شاہانہ دستر خوان آپ کے آگے بچھتا ہو گا لیکن وہ یہ معلوم کر کے حیران ہوں گے کہ واقعہ بالکل خلاف تھا اور اگر ایک طرف آنحضرت ہی سادگی کے کامل نمونہ تھے تو دوسری اور طرف سادہ زندگی میں بھی آپ دنیا کے لیے ایک نمونہ تھے۔حضرت عائشہ سے روایت ہے انہوں نے اپنے بھانجے حضرت عروہ سے فرمایا ابْنَ أُخْتِى إِنْ كُنَّا لَيَنظُرُ إِلَى الْهَلَالِ ثُمَّ الْهَلَالِ ثَلاثَةَ أَهِلَّةٍ فِي شَهْرَيْنِ وَمَا أُوْقِدَتْ فِي أَبْيَاتِ رَسُوْلِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَارٌ فَقُلْتُ يَا خَالَهُ مَا كَانَ يُعِيْشُكُمْ قَالَتْ الْأسْوَدَانِ التَّمْرُ وَالْمَاءُ إِلَّا أَنَّهُ قَدْ كَانَ لِرَسُوْلِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِيْرَانٌ مِنَ الْأَنْصَارِ كَانَتْ لَهُمْ مَنَائِحُ وَكَانُوْا يَمْنَحُوْنَ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أَلْبَانِهَا فَيَسْقِيْنَاءُ یعنی