سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 206 of 535

سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل) — Page 206

سيرة النبي علي 206 جلد 1 دیتے۔اللہ اللہ! کیسی سادہ زندگی ہے۔کیا بے نظیر نمونہ ہے۔کیا کوئی انسان بھی ایسا پیش کیا جا سکتا ہے جس نے بادشاہ ہو کر یہ نمونہ دکھایا ہو کہ اپنے گھر کے کام کے لیے ایک نو کر بھی نہ ہو؟ اگر کسی نے دکھایا ہے تو وہ بھی آپ کے خدام میں سے ہوگا۔کسی دوسرے بادشاہ نے جو آپ کی غلامی کا فخر نہ رکھتا ہو یہ نمونہ کبھی نہیں دکھایا۔ایسے بھی مل جائیں گے جنہوں نے دنیا سے ڈر کر اسے چھوڑ ہی دیا۔ایسے بھی ہوں گے جو دنیا میں پڑے اور اسی کے ہو گئے۔مگر یہ نمونہ کہ دنیا کی اصلاح کے لیے اس کا بوجھ اپنے کندھوں پر بھی اٹھائے رکھا اور ملکوں کے انتظام کی باگ اپنے ہاتھ میں رکھی مگر پھر بھی اس سے الگ رہے اور اس سے محبت نہ کی اور بادشاہ ہو کر فقر اختیار کیا۔یہ بات آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے خدام کے سوا کسی میں نہیں پائی جاتی۔جن لوگوں کے پاس کچھ تھا ہی نہیں وہ اپنے رہنے کے لیے مکان بھی نہ پاتے تھے اور دشمن جنہیں کہیں چین سے نہیں رہنے دیتے تھے کبھی کہیں اور کبھی کہیں جانا پڑتا تھا ان کے ہاں کی سادگی کوئی اعلیٰ نمونہ نہیں۔جس کے پاس ہو ہی نہیں اس نے شان وشوکت سے کیا رہنا ہے مگر ملک عرب کا بادشاہ ہو کر لاکھوں روپیہ اپنے ہاتھ سے لوگوں میں تقسیم کر دینا اور گھر کا کام کاج بھی خود کرنا یہ وہ بات ہے جو اصحاب بصیرت کی توجہ کو اپنی طرف کھینچے بغیر نہیں رہ سکتی۔عرب کے ملک میں اب بھی چھوٹی چھوٹی ریاستیں ہیں اور ان کے افسر یا امیر جس طرز رہائش کے عادی ہیں انہیں بھی جاننے والے جانتے ہیں۔خود شریف مکہ جنہیں صرف حجاز میں ایک حد تک دخل و تصرف حاصل ہے انہی کے دروازہ پر بیسیوں غلام موجود ہیں جو ہر وقت خدمت کے لیے دست بستہ ہیں مگر آنحضرت یہ سارے عرب پر حکمران تھے۔یمن اور حجاز اور نجد اور بحرین تک آپ کے قبضہ میں تھے مگر با وجود تمام عرب اور اس کے ارد گرد کے علاقوں پر حکومت کرنے کے آپ کا گھر کے کاروبار خود کرنا اس پاکیزگی کی طرف ہمیں اشارہ کر رہا ہے جو آپ کے ہر عمل