سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 7 of 535

سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل) — Page 7

سيرة النبي علي 7 جلد 1 بلا واسطہ کلام کے حامل مارچ 1907 ء میں حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب نے رساله تشخیز الاذہان میں ایک مضمون ”محبت الہی“ کے عنوان سے تحریر فرمایا جو بعد میں کتابی شکل میں شائع ہوا۔اس مضمون میں خدا کے کلام کی ایک صورت پلا وسیلہ مکالمہ و مخاطبہ کا ذکر کرتے ہوئے تحریر فرمایا:۔۔بزرگ اور اولیاء اس بات کے بھی قائل ہیں کہ بلا کسی وسیلہ کے بھی خدا کا کلام انسان پر نازل ہوتا ہے اور یہ اُس وقت ہوتا ہے جبکہ خدا تعالیٰ اپنے کسی بندہ پر خاص طور سے مہربان ہوتا ہے۔جیسا کہ نبی کریم ﷺ ایک ایسا نمونہ موجود ہیں کہ جو ہر وقت ہماری نظروں کے سامنے موجود ہے۔اور اگر چہ وہ فوت ہو گئے ہیں مگر پھر بھی ان کے معجزات ، نشانات اور پیشگوئیاں جو کہ ہر زمان اور ہر مکان میں پوری ہورہی ہیں ایک ایسی حجت ہے کہ جو ہر وقت ہمارے سامنے نبی کریم ﷺ کا زندہ وجود پیش کرتی ہے۔اور ہم دیکھتے ہیں کہ آپ سے بلا کسی وسیلہ کے خدا تعالیٰ نے کلام کیا۔جیسا کہ معراج کے موقع پر اور دیگر بہت سے موقعوں پر۔اور یہی نہیں آپ تو بڑی شان کے آدمی تھے۔آپ کے ادنی غلاموں پر خدا تعالیٰ نے اپنی مہربانی سے ایسی شفقت فرمائی ہے کہ ان سے اس طرح پلا وسیلہ مکالمہ ومخاطبہ کیا ہے۔“ تفخیذ الاذہان مارچ 1907 ءصفحہ 34)