سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 8 of 535

سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل) — Page 8

سيرة النبي علي 8 00 رسول کریم ﷺ کی سچائی کا ایک ثبوت حضرت مسیح موعود علیہ السلام 26 مئی 1908 ء کو لاہور میں وفات پاگئے۔آپ کی وفات پر مخالفین احمدیت بالخصوص ڈاکٹر عبد الحکیم صاحب اور مولوی ثناء اللہ صاحب نے بعض اعتراضات کئے جن کے جواب حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب نے تفخیذ الا ذہان جون، جولائی 1908ء میں دیئے۔یہ مضمون جولائی 1908ء میں کتابی شکل میں شائع ہوا۔مضمون کا عنوان تھا ” صادقوں کی روشنی کون دور کر سکتا ہے۔اس میں رسول کریم ﷺ کی سچائی کا ایک ثبوت دیتے ہوئے تحریر فرمایا:۔اس جگہ میں اس بات کا ذکر کرنا بھی مناسب سمجھتا ہوں کہ اصل ثبوت سچائی کا پیشگوئیاں ہی نہیں بلکہ اور دلائل بھی ہیں جن سے ایک نبی کی سچائی کو ہم ثابت کر سکتے ہیں۔کیونکہ پیشگوئیاں صرف وقتی ہوتی ہیں اور پھر محض قصے رہ جاتے ہیں جس سے آئندہ زمانہ کے لوگ بہت فائدہ اٹھا نہیں سکتے۔بعد ازاں تعلیم رہ جاتی ہے۔اور خود نبی کے وقت میں بھی ایسی اور راہیں ہیں جن سے اس کی سچائی ظاہر ہوتی ہے۔مثلاً نبی کریم ﷺ کی سچائی کا ایک ثبوت خدا تعالیٰ نے قرآن شریف میں یہ دیا ہے کہ قُل لَّوْ شَاءَ اللهُ مَا تَلَوْتُهُ عَلَيْكُمْ وَلَا أَدْرِيكُمْ بِهِ فَقَدْ لَبِثْتُ فِيْكُمْ عُمُرًا مِنْ قَبْلِهِ اَفَلَا تَعْقِلُونَ 1 یعنی اے نبی ! تو ان لوگوں کو کہہ دے کہ اگر اللہ چاہتا تو میں یہ آیات تمہارے سامنے نہ پڑھتا اور نہ تم کو ان کی خبر دیتا۔پس تحقیق میں نے اس سے پہلے ایک عمر تم میں گزاری ہے پھر تم کیوں عقل نہیں کرتے۔یعنی میں تم میں ایک لمبا عرصہ گزار چکا ہوں پھر تم میری سچائی میں کیا شک لاتے ہو۔کیونکہ اگر مجھے پہلے جلد 1