سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل) — Page 200
سيرة النبي علي 200 جلد 1 کا کرنا ہمارے دین اور دنیا کے لیے مفید تھا تو ہم غلط کار ہیں۔اور اگر وہ باتیں جن کا کرنا دین اسلام کے رو سے ہمارے لیے جائز ہے صرف تکلف اور بناوٹ سے نہیں کرتے ورنہ دراصل ان کے شائق ہیں تو یہ نفاق ہے۔اور اگر لوگوں کی نظروں میں عزت وعظمت حاصل کرنے کے لیے اپنے آپ کو خاموش اور سنجیدہ بناتے ہیں تو یہ صلى الله شرک ہے۔آنحضرت ﷺ کی زندگی میں ایسا ایک بھی نمونہ نہیں پایا جاتا جس سے معلوم ہو کہ آپ نے ان تینوں اغراض میں سے کسی کے لیے تکلف یا بناوٹ سے کام لیا بلکہ آپ کی زندگی نہایت سادہ اور صاف معلوم ہوتی ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ اپنی عزت کو لوگوں کے ہاتھوں میں نہیں سمجھتے تھے بلکہ عزت و ذلت کا مالک خدا کو ہی سمجھتے تھے۔جولوگ دین کے پیشوا ہوتے ہیں انہیں یہ بہت خیال ہوتا ہے کہ ہماری عبادتیں اور ذکر دوسرے لوگوں سے زیادہ ہو اور خاص طور پر تصنع سے کام لیتے ہیں تا لوگ انہیں نہایت نیک سمجھیں۔اگر مسلمان ہیں تو وضو میں خاص اہتمام کریں گے اور بہت دیر تک وضو کے اعضاء کو دھوتے رہیں گے اور وضو کے قطروں سے پر ہیز کریں گے۔سجدہ اور رکوع لمبے لمبے کریں گے۔اپنی شکل سے خاص حالت خشوع و خضوع ظاہر کریں گے اور خوب وظائف پڑھیں گے مگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم باوجود اس کے کہ سب سے اتقی اور اورع تھے اور آپ کے برابر خشیت اللہ کوئی انسان پیدا نہیں کر سکتا مگر باوجود اس کے آپ ان سب باتوں میں سادہ تھے اور آپ کی زندگی بالکل ان تکلفات سے پاک تھی۔ابوقتادہ سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا إِنِّي لَا قُوْمُ فِي الصَّلَاةِ أُرِيْدُ أَنْ أُطَوّلَ فِيْهَا فَأَسْمَعُ بُكَاءَ الصَّبِيِّ فَأَتَجَوَّزُ فِي صَلَاتِي كَرَاهِيَةَ أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمّه 78 یعنی میں بعض دفعہ نماز میں کھڑا ہوتا ہوں اور ارادہ کرتا ہوں کہ نماز کو لمبا کر دوں مگر کسی بچہ کے رونے کی آواز سن لیتا ہوں تو اپنی نماز کو اس خوف۔