سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل) — Page 199
سيرة النبي علي 199 جلد 1 دل مردہ ہو گئے ہیں اور زندگی ان کے لیے تلخ ہوگئی ہے۔امراء کے مقابلہ میں دوسرا گر وہ علماء اور صوفیاء کا ہے جو دین کے عماد اور ستون سمجھے جاتے ہیں یہ بھی تکلفات میں مبتلا ہیں اور انہیں بھی اپنی عزت کے قائم رکھنے کے لیے تکلف سے کام لینا پڑتا ہے۔اپنی چال میں ، اپنی گفتگو میں ، اپنے اٹھنے بیٹھنے میں، اپنے پہنے میں ، اپنے کھانے میں ہر بات میں تکلفات سے کام لیتے ہیں اور انہیں یقین ہے کہ اسی سے ہمارا تقدس ثابت ہوتا ہے۔یہ مذہبی لیڈر خواہ کسی مذہب کے ہوں اس مرض میں مبتلا ہیں۔مسلمان صوفیاء کو ہی کوئی جا کر دیکھے کس طرح مراقبہ کی حالت میں اپنے مریدوں کے سامنے بیٹھتے ہیں۔مگر بہت ہوتے ہیں جن کے دل اندر سے اور ہی خواہشات رکھتے ہیں اور ان کی زندگیاں اپنے بھائیوں یعنی امراء سے زیادہ سکھ والی نہیں ہوتیں بلکہ شاید کچھ زیادہ ہی تلخ ہوں کیونکہ وہ اپنے جذبات کے پورا کرنے کے لیے کوئی نہ کوئی راہ نکال لیتے ہیں مگر علماء اور صوفیاء اس سے بھی محروم ہیں۔میری اس بیان سے یہ غرض ہے کہ دنیا میں تکلف کا بہت دور دورہ ہے اور دینی اور دنیاوی دونوں قسم کے عظماء اس مرض میں مبتلا ہیں اور نہ صرف آج مبتلا ہوئے ہیں بلکہ دنیا میں یہ نقشہ ہمیشہ سے قائم ہے اور سوائے اُن لوگوں کے جن کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے تائید و نصرت ہو اور بہت کم لوگ اس بناوٹ سے بچ سکتے ہیں۔ہمارے ہادی اور رہنما آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تو رحمۃ للعالمین ہو کر آئے تھے اور اللہ تعالیٰ نے آپ کو گل دنیا کے لیے اسوہ حسنہ قرار دیا ہے اس لیے آپ نے ہمارے لیے جو نمونہ قائم کیا وہی سب سے درست اور اعلیٰ ہے اور اس قابل ہے کہ ہم اس کی نقل کریں۔آپ نے اپنے طریق عمل سے ہمیں بتایا ہے کہ جذبات نفس جو پاک اور نیک ہیں ان کو دبانا تو کسی طرح جائز ہی نہیں بلکہ ان کو تو ابھارنا چاہیے۔اور جو جذبات ایسے ہوں کہ ان سے گناہوں اور بدیوں کی طرف توجہ ہوتی ہو ان کا چھیانا نہیں بلکہ ان کا مارنا ضروری ہے۔پس اگر تکلف سے بعض ایسی باتیں نہیں کرتے جن