سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل) — Page 186
سيرة النبي علي 186 جلد 1 کیونکہ ممکن تھا کہ وہ بچپن کے جوش و خروش میں آپ کی خدمت میں زمین پیش کر دیتے لیکن بڑے ہو کر ان کے دل میں افسوس ہوتا کہ اگر وہ زمین ہم بیچ دیتے یا اس وقت ہمارے پاس ہوتی تو وہ زمین یا اس کی قیمت ہمارے کام آتی اور ہماری معیشت کا سامان بنتی۔اس احتیاط کی وجہ سے اس خیال سے کہ ابھی یہ بچے ہیں اور اپنے نفع و نقصان کو نہیں سمجھ سکتے آپ نے اس زمین کے مفت لینے سے بالکل انکار کر دیا۔گو وہ لڑکے اپنے ایمان کے جوش میں زمین ہبہ کر رہے تھے اور اگر آپ اسے قبول کر لیتے تو بجائے افسوس کرنے کے وہ اس پر خوش ہوتے کیونکہ صحابہ کی زندگیوں کا مطالعہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کے بچے بھی جوانوں سے کم نہ تھے اور چودہ پندرہ سال تک کے بچے مال تو کیا جان دینے کے لیے تیار ہو جاتے۔چنانچہ بدر کی جنگ میں دو ایسے بچے بھی شامل ہوئے تھے۔پس باوجود اس کے کہ وہ بچے تھے اور ابھی کم سن تھے مگر بظاہر حالات ان کے ایمانوں کے اندازہ کرنے سے کہا جا سکتا تھا کہ وہ اس پر کبھی متأسف نہ ہوں گے مگر پھر بھی رسولکر یم ﷺ نے مناسب نہ جانا کہ امکانی طور پر بھی ان کو ابتلاء میں ڈالا جائے اور اسی بات پر اصرار کیا کہ وہ قیمت وصول کریں اور اگر چاہیں تو اپنی زمین فروخت کر دیں ورنہ آپ نہیں لیں گے۔آخر آپ کے اصرار کو دیکھ کر ان بچوں اور ان کے والیوں نے قیمت لے لی اور وہ زمین آپ کے پاس فروخت کر دی۔آجکل دیکھا جاتا ہے کہ یتامیٰ سے بھی لوگ چندہ وصول کرتے ہیں اور بالکل اس بات کی پرواہ نہیں کرتے کہ شاید ان کو بعد ازاں تکلیف ہو اور بہت سے لوگ ایسے ہیں جو بالکل خدا کا خوف نہیں کرتے مگر رسول کریم ﷺ نے اپنے طریق عمل سے بتا دیا که با وجود اس کے کہ آپ حقدار تھے اور اہل مدینہ کے مہمان تھے آپ نے ان یتامی سے بغیر قیمت زمین لینے سے انکار کر دیا اور باصرار قیمت ان کے حوالہ کی۔افسوس کہ کامل اور اکمل نمونہ کے ہوتے ہوئے مسلمانوں نے اپنے عمل میں سستی کر دی ہے اور یتامی کے اموال کی قطعاً کوئی حفاظت نہیں کی جاتی۔ان کے اموال کی حفاظت تو صلى الله