سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 185 of 535

سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل) — Page 185

سيرة النبي علي 185 جلد 1 اس حدیث سے ایک بات تو یہ معلوم ہوتی ہے کہ مدینہ میں داخل ہوتے ہی پہلا خیال آپ کو یہی آیا کہ مسجد بنائیں اور پہلے آپ نے اس کے لیے کوشش شروع کی اور آپ کے دل میں اللہ تعالیٰ کی محبت کا جو جوش تھا اس کا کسی قدر پتہ اس واقعہ سے لگ جاتا ہے۔دوسرے یہ امر ثابت ہوتا ہے کہ آپ معاملات میں کیسے محتاط تھے۔اہل مدینہ نے بار بار درخواست کر کے آپ کو بلایا تھا اور خود جا جا کر عرض کی تھی کہ آپ ہمارے شہر میں تشریف لائیں اور ہم آپ کو اپنے سر آنکھوں پر بٹھائیں گے اور جان و مال سے آپ کی خدمت کریں گے اور جہاں تک ہماری طاقت ہو گی آپ کو آرام پہنچانے کی کوشش کریں گے غرض کہ بار بار کی درخواستوں اور اصرار کے بعد آپ خدا تعالیٰ کے حکم کے ماتحت تشریف لائے اور مدینہ والوں کا فرض تھا کہ آپ کو جگہ دیتے اور حق مہمان نوازی ادا کرتے اور مسجد بھی تیار کراتے اور آپ کی رہائش کے لیے بھی مکان کا بندو بست کرتے اور وہ لوگ اپنے حق کو سمجھتے بھی تھے اور ہر طرح خدمت کے لیے حاضر تھے مگر چونکہ آپ کے تمام کام اللہ تعالیٰ کے سپرد تھے اور ہر ایک فعل میں آپ اُسی پر اتکال کرتے تھے اس لیے آپ نے اپنی رہائش کے لیے ایسی جگہ کو پسند کیا جہاں اللہ تعالیٰ آپ کو رکھنا پسند کرے اور بجائے خود جگہ پسند کرنے کے اپنی اونٹنی کو چھوڑ دیا کہ خدا تعالیٰ جہاں اسے کھڑا کرے وہیں مسجد بنائی جائے اور وہیں رہائش کا مکان بنایا جائے۔اب جس جگہ آپ کی اونٹنی کھڑی ہوئی وہ دو یتیموں کی جگہ تھی اور وہ بھی آپ کے خدام میں سے تھے اور ہر طرح آپ پر اپنا جان و مال قربان کرنے کے لیے تیار تھے اور بطور ہبہ کے وہ زمین پیش کرتے تھے مگر باوجود اس کے کہ آپ اہل مدینہ کے مہمان تھے اور وہ لڑکے مہمان نوازی کے ثبوت میں آپ کو وہ زمین مفت دینا چاہتے تھے آپ نے اس کے قبول کرنے سے انکار کر دیا اور اس کی وجہ وہ احتیاط تھی جو آپ کے تمام کاموں میں پائی جاتی تھی۔اول تو آپ یہ نہ چاہتے تھے کہ وہ نابالغ بچوں سے بغیر معاوضہ کے زمین لیں