سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 180 of 535

سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل) — Page 180

سيرة النبي علي 180 جلد 1 مال شیر مادر کی طرح کھا رہے ہیں۔حقوق کا اتلاف کس زور وشور سے جاری ہے مگر کوئی نہیں جو اپنے نفس کا محاسبہ کرے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جیسا پاک انسان جس پر گناہ کا شبہ بھی نہیں کیا جا سکتا غرباء کے اموال کی نسبت ایسی احتیاط کرے کہ ان کا مال استعمال کرنا تو الگ رہا اتنا بھی پسند نہ فرمائے کہ اسے اپنے گھر میں پڑا رہنے دے۔اور اب گھر میں رکھنے کا تو کوئی سوال ہی نہیں مسلمان یہ چاہتے ہیں کہ لوگ ہمارے پاس اپنے اموال رکھوائیں تا ہم پھر انہیں واپس نہ دیں۔کاش! ہمارے رؤساء اس نکتہ کو سمجھتے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی اختیار کرتے جو باوجود معصوم ہونے کے اپنے نفس پر ایسا محاسبہ رکھتے کہ ذراسی غفلت میں بھی نہ پڑنے دیتے۔اور یہ لوگ دیکھتے کہ ہم تو اپنے نفوس پر ایسے قابو یافتہ نہیں پھر بغیر کسی حساب کے لوگوں کے اموال کو جمع کرنا ہمارے لیے کیسا خطرناک ہوگا مگر اس طرف قطعاً توجہ نہیں اور گل روپیہ بجائے غرباء کی خبر گیری کے اپنے ہی نفس پر خرچ کر دیتے ہیں اور جن کے لیے روپیہ جمع کیا جاتا ہے اور جن پر خرچ کرنے کا حکم صلى اللہ تعالیٰ نے بادشاہوں کو دیا ہے ان کی کوئی خبر ہی نہیں لیتا۔آنحضرت ﷺ کا یہ فعل ہمیشہ کے لیے مسلمان بادشاہوں کے لیے ایک نمونہ ہے جس پر عمل کرنے سے وہ فلاح دارین پاسکتے ہیں۔اگر رعایا کو یقین ہو جائے کہ ان کے اموال بے جا طور سے نہیں خرچ کیے جاتے تو وہ اپنے بادشاہ کے خلاف سازشوں کی مرتکب نہ ہومگر ہمارے بادشاہوں نے اپنے حقوق کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے حقوق سے کچھ زیادہ ہی سمجھ لیا ہے اور اپنے نفس پر آپ سے بھی زیادہ بھروسہ کرتے ہیں۔حضرت فاطمہ کا سوال پچھلے واقعہ سے تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ آپ ایسے آ محتاط تھے کہ غرباء کا مال جب تک اُن کے پاس نہ پہنچ جائے آپ کو آرام نہ آتا اور آپ کسی کے حق کے ادا کرنے میں کسی قسم کی سستی یا دیر کو روا نہ رکھتے۔لیکن وہ واقعہ جو میں آگے بیان کرتا ہوں ثابت کرتا ہے کہ آپ