سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل) — Page 179
سيرة النبي علي 179 جلد 1 کے برخلاف تھا۔آپ کبھی لوگوں کے اموال پر ہاتھ نہ ڈالتے بلکہ باوجود اپنے لاثانی تقویٰ اور بے نظیر خشیت الہی کے آپ لوگوں کے اموال کو اپنے گھر بھی رکھنا پسند نہ کرتے تھے۔حضرت عقبہ تقفرماتے ہیں کہ صَلَّيْتُ وَرَاءَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْمَدِينَةِ الْعَصْرَ فَسَلَّمَ فَقَامَ مُسْرِعًا فَتَخَطَّى رِقَابَ النَّاسِ إِلَى بَعْضٍ حُجَرِ نِسَائِهِ فَفَزِعَ النَّاسُ مِنْ سُرْعَتِهِ فَخَرَجَ عَلَيْهِمُ فَرَاى أَنَّهُمْ قَدْ عَجِبُوْا مِنْ سُرُعَتِهِ فَقَالَ ذَكَرُتُ شَيْئًا مِنْ تِبْرِ عِنْدَنَا فَكَرِهُتُ أَنْ يَحْبِسَنِي فَأَمَرْتُ بِقِسْمَتِهِ 70 میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے مدینہ میں عصر کی نماز پڑھی۔پس آپ نے سلام پھیرا اور جلدی سے کھڑے ہو گئے اور لوگوں کی گردنوں پر سے گو دتے ہوئے اپنی بیویوں میں سے ایک کے حجرہ کی طرف تشریف لے گئے۔لوگ آپ کی اس جلدی کو دیکھ کر گھبرا گئے۔پس جب باہر تشریف لائے تو معلوم کیا کہ لوگ آپ کی جلدی پر متعجب ہیں۔آپ نے فرمایا کہ مجھے یاد آ گیا کہ تھوڑا سا سونا ہمارے پاس رہ گیا ہے اور میں نے نا پسند کیا کہ وہ میرے پاس پڑا رہے اس لیے میں نے جا کر حکم دیا کہ اسے تقسیم کر دیا جائے۔اس واقعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ مال کے معاملہ میں نہایت محتاط تھے اور کبھی پسند نہ فرماتے کہ کسی بھول چوک کی وجہ سے لوگوں کا مال ضائع ہو جائے۔آپ کی نسبت یہ تو خیال کرنا بھی گناہ ہے کہ نَعُوذُ بِاللهِ آپ اپنے نفس پر اس بات سے ڈرے ہوں کہ کہیں اس سونے کو میں نہ خرچ کرلوں۔مگر اس سے یہ نتیجہ ضرور نکلتا ہے کہ آپ اس بات سے ڈرے کہ کہیں جہاں رکھا ہو وہیں نہ پڑا رہے اور غرباء اس سے فائدہ اٹھانے سے محروم رہ جائیں۔اور اس خیال کے آتے ہی آپ دوڑ کر تشریف لے گئے اور فوراً وہ مال تقسیم کر وایا اور پھر مطمئن ہوئے۔اس احتیاط کو دیکھو اور اس بے احتیاطی کو دیکھو جس میں آج مسلمان مبتلا ہو رہے ہیں۔امانتوں میں کس بے دردی سے خیانت کی جا رہی ہے۔لوگ کس طرح غیروں کا