سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل) — Page 166
سيرة النبي علي 166 جلد 1 استعمال کرتا ہوں تو اس سے میری مراد کیا ہوتی ہے۔چونکہ عام طور سے یہ لفظ اردو میں عزت“ کے معنی میں استعمال ہونے لگا ہے اور عام لوگ کہا کرتے ہیں کہ فلاں شخص بڑے وقار والا ہے اور اس سے ان کی مراد یہ ہوتی ہے کہ بڑی عزت والا ہے یا معزز ہے لیکن دراصل اس لفظ سے گو” بڑائی اور عزت“ کے معنے نکلتے ہیں لیکن اس سے مراد نفس کی بڑائی ہوتی ہے یعنی جس شخص میں چھچھورا پن، کمینگی اور ہلکا پن نہ ہو، ذرا ذرا سی بات پر چڑ نہ جائے ، لوگوں کی باتیں سن کر اُن پر حوصلہ نہ ہار دے، مخالف کی باتوں کو ایک حد تک برداشت کرنے کی طاقت رکھتا ہو اسے ”صاحب وقار‘“ کہیں گے۔اور جو رذیل لوگوں کی صحبت میں رہتا ہو، چھوٹی چھوٹی باتوں پر چڑ جاتا ہو، ذرا ذرا سی تکلیف پر گھبرا جاتا ہو، چھوٹے چھوٹے مصائب پر ہمت ہار بیٹھتا ہو وہ صاحب وقار نہیں ہو گا۔خواہ اس کے پاس کتنی ہی دولت ہو اور کیسے ہی عظیم الشان عہدہ پر مقرر ہو۔پس گو وقار کے معنوں میں عظمت اور بڑائی بھی ہے مگر میری اس جگہ ”وقار سے وہی مراد ہے جو میں نے پہلے بیان کر دی ہے۔آنحضرت ﷺ کو جو عہدہ اور شان اللہ تعالیٰ نے عطا فرمائی تھی وہ دنیاوی با دشاہوں سے کسی صورت میں کم نہ تھی۔اور گو آپ خود اپنے زہد و تقویٰ کی وجہ سے اپنی عظمت کا اظہار نہ کرتے ہوں لیکن اس میں کچھ شک نہیں کہ آپ ایک بادشاہ تھے اور تمام عرب آپ کے ماتحت ہو گیا تھا۔اور اگر آپ ان سب طریقوں کو اختیار کر لیتے جو اُس وقت کے بادشاہوں میں مروج تھے تو دنیاوی نقطۂ خیال سے آپ پر کوئی الزام قائم نہیں ہوسکتا تھا اور آپ دنیاوی حکومتوں کی نظر میں بالکل حق بجانب ہوتے لیکن آپ کی عزت اس بادشاہت کی وجہ سے نہ تھی جو شہروں اور ملکوں پر حکومت کے نام سے مشہور ہے بلکہ دراصل آپ کی عزت اس بادشاہت کی وجہ سے تھی جو آپ کو اپنے دل پر حاصل تھی۔جو آپ کو دوسرے لوگوں کے دلوں پر حاصل تھی۔آپ نے باوجود بادشاہ ہونے کے اس طریق کو اختیار نہ کیا جس پر بادشاہ چلتے ہیں اور اپنی عظمت کے