سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 162 of 535

سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل) — Page 162

سيرة النبي علي 162 جلد 1 اس کی رحمت کے دروازے خود بخود کھل جاتے ہیں اور وہ ان اسرار کا مشاہدہ کرتا ہے جو اس سے پہلے اس کے واہمہ میں بھی نہیں آتے تھے اور یہ حالت انسان کے لیے ایک جنت ہوتی ہے جسے اسی دنیا میں حاصل کر لیتا ہے اور خدا تعالیٰ کے انعامات کا ایسے ایسے رنگ میں مطالعہ کرتا ہے کہ معقل حیران ہو جاتی ہے اور جنت کی تعریف ان کشوف پر صادق آتی ہے کہ مَا لَا عَيْنٌ رَأتْ وَلَا أُذن سَبعَتُ لیکن باوجود اس بات کے پھر بھی نہیں کہہ سکتے کہ اللہ تعالیٰ مشقت اٹھانے سے حاصل ہوسکتا ہے کیونکہ بہت سے انسان اپنی عمر کو رائیگاں کر دیتے ہیں اور کسی اعلیٰ درجہ پر نہیں پہنچتے۔اہلِ ہنود میں ایسے لوگ پائے جاتے ہیں کہ جو اپنے ہاتھ سکھا دیتے ہیں۔ایسے بھی پائے جاتے ہیں کہ جو سردیوں میں پانی میں کھڑے رہتے ہیں اور گرمیوں میں اپنے اردگرد آگ جلا کر اس کے اندر اپنا وقت گزارتے ہیں۔ایسے بھی ہیں کہ جو سارا دن سورج کی طرف ٹکٹکی لگا کر دیکھتے رہتے ہیں اور جدھر سورج پھرتا جائے اُن کی نظر اُس کے ساتھ پھرتی جاتی ہے۔پھر ایسے بھی ہیں جو نجاست اور گندگی کھاتے ہیں ، مردوں کا گوشت کھاتے ہیں۔غرض کہ طرح طرح کی مشقتوں اور تکالیف کو برداشت کرتے ہیں اور ان کا منشا یہی ہوتا ہے کہ وہ خدا کو پالیں لیکن اکثر دیکھا گیا ہے کہ یہ لوگ بجائے روحانیت میں ترقی کرنے کے اور گرتے جاتے ہیں۔مسیحیوں میں بھی ایک جماعت پادریوں کی ہے جو نہانے سے پر ہیز کرتی ہے۔نکاح نہیں کرتی۔صوف کے کپڑے پہنتی اور بہت اقسام طیبات سے محترز رہتی ہے لیکن اسے وہ نور قلب عطا نہیں ہوتا جس سے سمجھا جائے کہ خدا تعالیٰ انہیں حاصل ہو گیا بلکہ اکثر دیکھا گیا ہے کہ ان لوگوں کے اخلاق عام مسیحیوں کی نسبت گرے ہوئے ہوتے ہیں۔مسلمانوں میں بھی ایسے لوگ موجود ہیں جو سارا سال روزہ رکھتے ہیں اور ہمیشہ روزہ سے رہتے ہیں حالانکہ رسول کریم علیہ نے دائمی روزے رکھنے سے منع فرمایا صلى الله ہے 63۔پھر بعض لوگ طیبات سے پر ہیز کرتے ہیں۔اپنے نفس کو خواہ مخواہ کی مشقتوں