سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل) — Page 159
سيرة النبي علي 159 جلد 1 لائق ہے۔اور پھر وہ شخص اور بھی قابل قدر ہے کہ جس کے افعال اس سے بالا رادہ سرزد ہوتے ہیں نہ خود بخود۔الله رسول کریم ﷺ کا اپنے لیے اللہ تعالیٰ سے یہ دعا مانگنا کہ یا اللہ ! مجھے ظلمت سے بچا کر نور کی طرف لے جا اور بدی سے مجھے بچا لے ثابت کرتا ہے کہ آپ کا بد کلامی یا بداخلاقی سے بچنا اُس تقویٰ کے ماتحت تھا جس سے آپ کا دل معمور تھا اور یہی وجہ تھی کہ آپ خدا تعالیٰ سے دعا بھی مانگتے تھے ورنہ جو لوگ نیکی کی وجہ سے نہیں بلکہ اپنی فطرت کی وجہ سے بعض گناہوں سے بچے ہوئے ہوتے ہیں وہ ان سے بچنے کی دعا یا خواہش نہیں کیا کرتے کیونکہ ان کے لیے ان اعمال بد کا کرنا نہ کرنا برا بر ہوتا ہے اور ان سے احتراز صرف اس لیے ہوتا ہے کہ ان کی پیدائش میں ہی کسی نقص کی وجہ سے بعض جذبات میں کمی آجاتی ہے جن کے استعمال سے خاص خاص بدیاں پیدا۔ہو جاتی ہیں۔اس بات کے ثابت کرنے کے بعد کہ آنحضرت علیہ کے تمام اعمال بالا رادہ تھے اور اگر کسی کام سے آپ بچتے تھے تو اسے برا سمجھ کر اس سے بچتے تھے نہ کہ عادتاً اور اگر کوئی کام آپ کرتے تھے تو اسی لیے کہ آپ اسے نیک سمجھتے تھے اور اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کا ذریعہ جانتے تھے اب میں اس دعا کی تشریح کرنی چاہتا ہوں تا معلوم ہو کہ آپ کے بدی سے تنفر اور نیکی سے عشق کا درجہ کہاں تک بلند تھا۔انسان جو کرتا ہے اس کی اصل وجہ اس کے دل کی ناپا کی اور عدم طہارت ہوتی ہے۔اگر دل پاک ہو تو گناہ بہت کم سرزد ہو سکتا ہے کیونکہ پھر جو گناہ ہوگا وہ غلطی سے ہوگا یا نامنہمی سے نہ کہ جان بوجھ کر۔ہاں جب دل گندہ ہو جائے تو اس کا اثر جوارح پر پڑتا ہے اور وہ قسم قسم کے گناہوں کا ارتکاب شروع کر دیتے ہیں۔ایک چور بے شک اپنے ہاتھ سے کسی کا مال اٹھاتا ہے لیکن دراصل ہاتھ ایک باطنی حکم کے ماتحت ہو کر کام کر رہا ہے اور اصل باعث وہ دل کی حرص ہے جس نے ہاتھ کی طرف اشارہ کیا ہے کہ