سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل) — Page 158
سيرة النبي علي 158 جلد 1 کس طرح آپ کے تقویٰ اور طہارت پر روشنی ڈالتی ہے۔میں بتا چکا ہوں کہ آپ ہر ایک قسم کی بدکلامی و بدگوئی، بداخلاقی اور بداعمالی سے پاک تھے اور یہی نہیں کہ پاک تھے بلکہ آپ کو بدی سے سخت نفرت اور نور اور نیکی اور تقوی سے پیار تھا اور یہی انسانی کمال کا اعلیٰ سے اعلیٰ درجہ ہے۔یعنی وہ بدی سے بچے اور تقویٰ کی زندگی بسر کرے۔ظلمت سے متنفر ہو اور نور سے محبت رکھے۔مگر اس حدیث سے پچھلی حدیث پر اور بھی روشنی پڑ جاتی ہے کیونکہ پچھلی حدیث سے تو یہ ثابت ہوتا تھا کہ آپ بدی سے متنفر تھے مگر اس حدیث سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ یہ فعل بالا رادہ تھا عا دتا یا فطرتا نہ تھا اور یہ اور بھی کمال پر دلالت کرتا ہے۔ہم دیکھتے ہیں کہ بہت سے کام انسان عادتا کرتا ہے یا فطرتاً بعض کاموں کی طرف راغب ہوتا ہے اور بعض سے بچتا ہے۔بہت سے لوگ دنیا میں دیکھے جاتے ہیں کہ وہ جھوٹ نہیں بولتے یا چوری نہیں کرتے۔اور ان کے جھوٹ سے بچنے یا چوری نہ کرنے کی وجہ یہ نہیں ہوتی کہ وہ جھوٹ سے دل میں سخت متنفر ہیں یا چوری کو برا جانتے ہیں بلکہ ان کا یہ کام صرف ان کی نیک فطرت کی وجہ سے ہی ہوتا ہے۔اور بہت دفعہ ایسا ہوتا ہے کہ وہ صرف عادت کے نہ ہونے کی وجہ سے ان بدیوں سے بچتے ہیں۔اگر ان کی عادت انہیں ڈال دی جائے تو وہ ان افعال کے مرتکب بھی ہو جائیں۔ایسا ہی بعض لوگ دیکھے جاتے ہیں کہ کسی نہ کسی وجہ سے رحم مادر سے ہی ان کے غصہ یا غضب کی صفت میں ضعف آچکا ہوتا ہے اور وہ باوجود سخت سے سخت اسباب طیش انگیز کے کبھی اظہار غضب نہیں کرتے بلکہ ان کا دل غیرت وحیا کے جذبات سے بالکل خالی ہو چکا ہوتا ہے۔یہ لوگ اگر چہ نرم دل کہلائیں گے لیکن ان کا غضب سے بچنا ان کی صفات حمیدہ میں سے نہیں سمجھا جائے گا کیونکہ یہ ان کا کمال نہیں بلکہ قدرت نے ہی انہیں ان جوشوں سے مبرا رکھا ہے۔لیکن ایک ایسا انسان جو غضب سے صرف اس وجہ سے بچتا ہے کہ وہ اسے برا جانتا ہے اور رحم سے محبت رکھتا ہے اور باوجود اس کے کہ اُسے طیش دلایا جائے اپنے جوشوں کو قابو میں رکھتا ہے وہ تعریف کے