سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل) — Page 155
سيرة النبي علي 155 جلد 1 کے ستانے پر چھوڑنا پڑتا ہے ، مدینہ میں کوئی راحت کی زندگی نہیں ملتی بلکہ یہاں آگے سے بھی تکلیف بڑھ جاتی ہے، ایک طرف منافق ہیں کہ خود آپ کی مجلس میں آ کر ہے ہیں اور بات بات پر سنا سنا کر طعنہ دیتے ہیں، آپ کے سامنے آپ کے خلاف سرگوشیاں کرتے ہیں، ہممکن سے ممکن طریق پر ایذاء دیتے ہیں اور پھر جھٹ تو بہ کر کے عفو کے طالب ہوتے ہیں، اپنے مہربان اہلِ وطن مکہ سے اخراج کے منصوبوں پر ہی کفایت نہیں کرتے جب دیکھتے ہیں کہ جسے ہم تباہ کرنا چاہتے تھے ہمارے ہاتھوں سے نکل گیا ہے اور اب ایک اور شہر میں جا بسا ہے تو وہاں بھی پیچھا کرتے ہیں، آس پاس کے قبیلوں کو اُکساتے ہیں، اور اپنے ساتھ شریک کر کے دگنی طاقت سے اسے مٹانا چاہتے ہیں ، یہود و نصاری اہلِ کتاب تھے اُن پر کچھ امید ہوسکتی تھی وہ بغض و حسد کی آگ میں جل مرتے ہیں اور امی اور مشرک اقوام سے بھی زیادہ بغض و عناد کا اظہار کرتے ہیں، پڑھے ہوؤں کی شرارتیں بھی کہتے ہیں پڑھی ہوئی ہوتی ہیں انہوں نے نہ صرف خود مقابلہ شروع کیا بلکہ دور دور تک آپ کی مخالفت کا بیج بونا شروع کیا۔نصاری بدحواس ہو کر قیصر روم کی چوکھٹ پر جبینِ نیاز کھسنے گئے تو یہود اپنی سازشوں کے پیٹھ ٹھونکنے والے ایرانیوں کے دربار میں جا فریادی ہوئے کہ اللہ اس اٹھتی ہوئی طاقت کو دباؤ کہ گو بظاہر معمولی معلوم ہوتی ہے مگر انداز کہے دیتے ہیں کہ چند ہی سال میں تمہارے تختوں کو اُلٹ دے گی اور عنان حکومت تمہارے ہاتھوں سے چھین لے گی۔یہ سب ستم و قہر کسی پر تھے ؟ ایک ایسے انسان پر جو دنیا کی اصلاح اور ترقی کے سوا کوئی اور مطلب ہی نہ رکھتا تھا۔جس کے کسی گوشہ دماغ میں ملک گیری کے خیالات نہ تھے۔جو اپنا قبلہ توجہ خدا تعالیٰ کی وحدت کے قیام کو بنائے بیٹھا تھا۔پھر کس جماعت کے خلاف یہ دیو ہیکل طاقتیں اٹھ کھڑی ہوئی تھیں جو اپنی مجموعی تعداد میں جس میں عورتیں اور بچے بھی شامل تھے چند ہزار سے زیادہ نہ تھی۔اب ان تکالیف میں ایک قابل سے قابل، حوصلہ مند سے حوصلہ مند انسان کا گھبرا جانا اور چڑ چڑاہٹ کا اظہار کرنا