سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 152 of 535

سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل) — Page 152

سيرة النبي علي 152 جلد 1 صلى الله ہیں کہ انہوں نے جو کچھ دوسروں کو کہا اُس پر خود بھی عامل ہوئے اُن کے سردار اور رئیس ہمارے آنحضرت ﷺ تھے۔آپ کی ساری زندگی میں ایک بات بھی ایسی نہیں ملے گی کہ آپ کی اور دوسروں کی مصلحتیں ایک ہی ہوں مگر پھر بھی آپ نے انہیں اور حکم دیا ہو اور اپنے لیے کچھ اور ہی تجویز کر لیا ہو۔بعض اوقات خود صحابہ چاہتے تھے کہ آپ آرام فرمائیں اور اس قدر محنت نہ کریں لیکن آپ قبول نہ فرماتے۔اگر لوگوں کو عبادت الہی کا حکم دیتے تو خود بھی کرتے۔اگر لوگوں کو بدیوں سے روکتے تو خود بھی رکتے۔غرضیکہ آپ نے جس قدر تعلیم دی ہے ہم بغیر کسی منکر کے انکار کے خوف کے کہہ سکتے ہیں کہ اس پر آپ خود عامل تھے اور شریعت اسلام کے جس قدرا حکام آپ کی ذات پر وارد ہوتے تھے سب کو نہایت کوشش اور تعتہد کے ساتھ بجالاتے۔مگر اس وقت جس بات کی طرف خاص طور سے میں آپ کو متوجہ کرنا چاہتا ہوں وہ بدی سے نفرت ہے۔اعمال بد تو انتہائی درجہ ہے، ادنی درجہ تو بد اخلاقی اور بد کلامی ہے جس کا انسان مرتکب ہوتا ہے اور جب اس پر دلیر ہو جاتا ہے تو پھر اور زیادہ جرات کرتا ہے اور بداعمالی کی طرف راغب ہوتا ہے۔لیکن جو شخص ابتدائی نقائص سے ہی پاک ہو وہ دوسرے سخت ترین نقائص اور کمزوریوں میں کب مبتلا ہو سکتا ہے۔اور میں انشاء اللہ تعالیٰ آگے جو کچھ بیان کروں گا اُس سے معلوم ہو جائے گا کہ آپ کیسے پاک تھے اور کس طرح ہر ایک نیکی میں آپ دوسرے بنی نوع پر فائق و برتر تھے۔حضرت عبداللہ بن عمرو فرماتے ہیں لَمْ يَكُنِ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاحِشًا وَلَا مُتَفَحِشًا وَكَانَ يَقُوْلُ إِنَّ مِنْ خِيَارِكُمْ أَحْسَنَكُمُ صلى الله أخلاقا 60 نبی کریم ﷺ نہ بدخلق تھے نہ بد گو اور فرمایا کرتے تھے کہ تم میں بہتر وہی ہیں جو تم میں سے اخلاق میں افضل ہوں۔اللہ اللہ !! کیا پاک وجود تھا۔آپ حسنِ اخلاق برتتے تب لوگوں کو نصیحت