سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل) — Page 147
سيرة النبي علي 147 جلد 1 دھت اس مرض کو مٹانے کی خاتم النبین ﷺ کو لگی ہوئی تھی وہ اور کسی کو نہ تھی۔آپ نے اپنے دعوی کے بعد ایک ہی کام کو مدنظر رکھا کہ ایک خدا کی پرستش کروائی جائے۔تمام اہلِ عرب جو شرک میں ڈوبے ہوئے تھے آپ کے مخالف ہو گئے اور یہاں تک آپ سے درخواست کی کہ جس طرح ہو آپ ہمارے معبودوں کی تردید کو جانے دیں اور ہم آپ سے وعدہ کرتے ہیں کہ آپ جو مطالبہ بھی پیش کریں گے ہم اسے قبول کریں گے حتی کہ اگر آپ چاہیں تو ہم آپ کو اپنا بادشاہ بھی بنا لیں گے اور ایسا بادشاہ کہ جس کے مشورہ کے بغیر ہم کوئی کام نہ کریں گے۔مگر باوجود اس تحریص و ترغیب کے اور باوجود طرح طرح کے ظلم وستم کے جو آپ پر اور آپ کی امت پر توڑے جاتے تھے آپ نے ایک لمحہ اور ایک سیکنڈ کے لیے بھی یہ برداشت نہ کیا کہ خدا تعالیٰ کی وحدت کے بیان میں ستی کریں بلکہ آپ نے ترغیب و تحریص دینے والوں کو یہی جواب دیا کہ اگر سورج کو میرے دائیں اور چاند کو میرے بائیں لا کھڑا کرو تب بھی میں خدا تعالیٰ کی وحدت کا بیان و اقرار ترک نہ کروں گا 56 جو تکالیف لوگوں کی طرف سے شرک کی تردید کی وجہ سے آپ کو پہنچیں ویسی اور کسی نبی کو نہیں پہنچیں۔اور جس طرح آپ کو اور آپ کے متبعین کو خدا تعالیٰ کے ایک ماننے پر ستایا اور دکھ دیا گیا ہے اس طرح اور کسی کو تکلیف نہیں دی گئی مگر پھر بھی آپ اپنے کام میں بجائے ست و غافل ہونے کے روز بروز زیادہ سے زیادہ مشغول ہوتے گئے۔حتی کہ بعض صحابہ قتل کیے گئے۔آپ کو وطن چھوڑنا پڑا، رشتہ دار چھوڑنے پڑے، زخمی ہوئے۔ان تمام تکالیف کے بعد آپ اپنے مخالفین کو یہی جواب دیتے کہ اَشْهَدُ أَنْ لَّا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِیکَ لَہ۔پہلے انبیاء نے اپنی اپنی قوم سے مقابلہ کیا اور خوب کیا لیکن ہمارے آنحضرت ﷺ نے ایک قوم سے نہیں ، دو قوموں سے نہیں بلکہ اُس وقت کی سب قوموں اور مذاہب سے خدا کے لیے مقابلہ کیا۔اُس وقت ایک بھی ایسی قوم نہ تھی جو شرک کی مرض میں گرفتار نہ ہو۔عرب تو سینکڑوں بتوں کے پجاری تھے ہی اور مجوسی صلى الله