سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 144 of 535

سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل) — Page 144

سيرة النبي عمال 144 جلد 1 فرماتے تھے بلکہ دوسروں کو بھی اس کی ترغیب دیتے اور وفات کے وقت بھی آپ کی زبان پر خدا تعالیٰ کا ہی ذکر تھا۔اب میں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ آپ خدا تعالیٰ کے ذکر پر چشم پرنم ہو جاتے تھے اور آپ کا خدا تعالیٰ کا ذکر کرنا یا سننا معمولی بات نہ تھی بلکہ ایک عاشقانه درد اور محبانہ ولولہ اس کا محرک اور باعث تھا۔حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ فرماتے ہیں قَالَ لِيَ رَسُولُ الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اقْرَأْ عَلَى قُلْتُ أَأَقْرَأُ عَلَيْكَ وَعَلَيْكَ أُنْزِلَ؟ قَالَ فَإِنِّي أُحِبُّ أَنْ أَسْمَعَهُ مِنْ غَيْرِى فَقَرَأْتُ عَلَيْهِ مِنْ سُوْرَةِ النِّسَاءِ حَتَّى بَلَغْتُ فَكَيْفَ إِذَا جِئْنَا مِنْ كُلِّ أُمَّةٍ بِشَهِيْدٍ وَجِئْنَا بِكَ عَلَى هؤُلَاءِ شَهِيدًا قَالَ أَمْسِكْ فَإِذَا عَيْنَاهُ تَشْرِفان 53 مجھے نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ مجھے کچھ قرآن سناؤ۔میں نے کہا کہ کیا میں آپ کو قرآن سناؤں حالانکہ قرآن شریف آپ ہی پر نازل ہوا ہے؟ فرمایا کہ مجھے یہ بھی پسند ہے کہ میں دوسرے کے منہ سے سنوں۔پس میں نے سورۃ نساء میں سے کچھ پڑھا یہاں تک کہ میں اس آیت تک پہنچا کہ پس کیا حال ہو گا جب ہر ایک امت میں سے ہم ایک شہید لائیں گے اور تجھے ان لوگوں پر شہید لائیں گے۔اس پر آپ برداشت نہ کر سکے اور فرمایا کہ بس کرو اور میں نے دیکھا کہ آپ کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے ہیں۔اللہ اللہ ! کیسا عشق ہے اور پھر کیسا ایمان ہے۔آپ قرآن شریف کو جو خدا تعالیٰ کا کلام ہے خود پڑھنے اور دوسروں کو سنانے کا حکم دیتے تھے اور پھر اپنے محبوب کا کلام سن کر چشم پر آب ہو جاتے۔آپ ایسے بہادر تھے کہ میدانِ کارزار میں آپ تک دشمن کی رسائی نہ ہوتی اور حضرت علیؓ جیسے بہادر آدمی فرماتے ہیں کہ جس جگہ آپ کھڑے ہوتے تھے وہاں وہی آدمی کھڑا ہو سکتا تھا جو نہایت دلیر اور بہادر ہو اور معمولی آدمی کی جرأت نہ پڑ سکتی تھی کہ آپ کے پاس کھڑا ہو۔پھر ایسا بہادر انسان کہ جس کے سامنے بڑے بڑے بہادروں کی روح کا نپتی تھی اور ان کی گردنیں جھک جاتی تھیں، وہ