سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 145 of 535

سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل) — Page 145

سيرة النبي علي 145 جلد 1 بہادر انسان جس کے نام کو سن کر بادشاہ خوف کھاتے تھے، جس کی بہادری کا شہرہ تمام عرب اور شام اور ایران میں ہو رہا تھا ، جس کی ہمت بلند کے سامنے قیصر و کسری کے ارادے پست ہو رہے تھے وہ خدا تعالیٰ کا کلام سن کر روتا ہے اور آپ کے دل کی کیفیت ایسی ہو جاتی ہے کہ زیادہ سننا گویا اس کے لیے برداشت سے بڑھ کر ہے۔کیا یہ بات مطہر قلب پر دلالت نہیں کرتی؟ کیا اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ ایک محبت کا دریا اس کے سینہ میں بہہ رہا تھا اور عشق کی آگ اس کے اندر بھڑک رہی تھی ؟ کیا خدا تعالیٰ کے ذکر پر یہ حالت اور پھر ایسے بہادر انسان کی جو کسی بشر سے خائف نہ تھا اس بات پر دلالت نہیں کرتی کہ خدا تعالیٰ کی محبت نے آپ کے روئیں روئیں میں دخل کیا ہوا تھا اور خدا تعالیٰ کا ذکر آپ کی غذا ہو گیا تھا اور اس کا جلال اور اس کی عظمت آپ کے سامنے ہر وقت موجود رہتی تھی اور اپنے مولا کا ذکر سنتے ہی آپ بے چین ہو جاتے ؟ کلامِ الہی آپ کی تسلی کا باعث تھا اور یہی آپ کے عشق کو تیز کرتا اور آپ اپنے پیارے کو یاد کر کے بے اختیار ہو جاتے۔آپ بڑی شان کے آدمی تھے اور خدا تعالیٰ سے جو آپ کو تعلق تھا وہ اور کسی انسان کو حاصل نہیں ہوا۔لیکن پھر بھی جب آپ خدا تعالیٰ کی ملاقات کو یاد کرتے اور قیامت کا نظارہ آپ کی آنکھوں کے آگے آتا تو با وجود ایک مضبوط دل رکھنے کے آنکھوں سے آنسو ٹپک پڑتے۔اخلاص باللہ۔شرک سے نفرت الله ایک خاص بات جو رسول کریم ﷺ کی زندگی میں دیکھی جاتی ہے اور جس میں کوئی نبی اور ولی آپ کا مقابلہ نہیں کر سکتا بلکہ آپ کے قریب بھی نہیں پہنچتا وہ آپ کا شرک سے بیزار ہونا ہے۔ہمارا یقین ہے کہ گل انبیاء شرک سے بچانے کے لیے دنیا میں آئے اور بلا استثناء ہر ایک نبی کی تعلیم یہی تھی کہ خدا تعالیٰ کو ایک سمجھا