سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 139 of 535

سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل) — Page 139

سيرة النبي علي 139 جلد 1 کرتے ہیں اور کیوں اپنے آپ کو اس تکلیف میں ڈالتے ہیں اور اس قدر دکھ اٹھاتے ہیں آخر کچھ تو اپنی صحت اور اپنے آرام کا بھی خیال کرنا چاہیے۔مگر وہ دکھ جو لوگوں کو بے چین کر دیتا ہے اور جس سے دیکھنے والے متاثر ہو جاتے ہیں آپ پر کچھ اثر نہیں کرتا اور عبادات میں کچھ مستی کرنے اور آئندہ اس قدر لمبا عرصہ اپنے رب کی یاد میں کھڑے رہنا ترک کرنے کی بجائے آپ ان کی اس بات کو نا پسند کرتے ہیں اور انہیں جواب دیتے ہیں کہ کیا میں خدا کا شکر گزار بندہ نہ بنوں ؟ وہ مجھ پر اس قدر احسان کرتا ہے ، اس قدر فضل کرتا ہے، اس شفقت کے ساتھ مجھ سے پیش آتا ہے پھر کیا اس کے اس حسنِ سلوک کے بدلہ میں اس کے نام کا ورد نہ کروں؟ اس کی بندگی میں کوتا ہی شروع کر دوں؟ کیا اخلاص سے بھرا اور کیسی شکر گزاری ظاہر کرنے والا یہ جواب ہے اور کس طرح آپ کے قلب مطہر کے جذبات کو کھول کر پیش کر دیتا ہے۔خدا کی یاد اور اس کے ذکر کی یہ تڑپ اور کسی کے دل میں ہے؟ کیا کوئی اور اس کا نمونہ پیش کر سکتا ہے؟ کیا کسی اور قوم کا بزرگ آپ کے اس اخلاص کا مقابلہ کر سکتا ہے؟ میں اس مضمون کے پڑھنے والے کو اس طرف بھی متوجہ کرنا چاہتا ہوں کہ اس عبادت کے مقابلہ میں اس بات کا خیال بھی رکھنا چاہیے کہ آپ کس طرح کاموں میں مشغول رہتے تھے اور یہی نہیں کہ رات کے وقت عبادت کے لیے اٹھ کر کھڑے ہو جاتے اور دن بھر سوئے رہتے۔کیونکہ اگر ایسا ہوتا تو پھر اس شوق اور تڑپ کا پتہ نہ لگتا جو اس صورت میں ہے کہ دن بھر بھی آپ خدا تعالیٰ کے نام کی اشاعت اور اس کی اطاعت و فرمانبرداری کا رواج دینے کی کوشش میں لگے رہتے تھے۔خود پانچ اوقات میں امام ہو کر نماز پڑھاتے تھے۔دور دور کے جو وفود اور سفراء آتے تھے اُن کے ساتھ خود ہی ملاقات کرتے اور ان کے مطالبات کا جواب دیتے۔جنگوں کی کمان بھی خود ہی کرتے۔صحابہ کو قرآن شریف کی تعلیم بھی دیتے۔حج بھی خود تھے تمام دن جس قدر