سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 137 of 535

سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل) — Page 137

سيرة النبي علي 137 جلد 1 اس نکتہ تک پہنچے اور آپ نے ایسے موقع پر خدا تعالیٰ کا نام لینے کی تعلیم دے کر ثابت کر دیا ہے کہ آپ ہر ایک موقع پر خدا تعالیٰ کا ذکر کرنا پسند فرماتے اور اسی کا ذکر آپ کے لیے غذا تھا۔اس واقعہ کے علاوہ اور بھی بہت سے واقعات ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ چاہتے تھے کہ خدا تعالیٰ کا ذکر زیادہ کیا جائے۔چنانچہ چھینک پر ، کھانا شروع کرتے وقت، پھر ختم ہونے کے بعد ، سوتے وقت ، جاگتے وقت، نمازوں کے بعد، کوئی بڑا کام کرتے وقت ، وضو کرتے وقت غرضیکہ اکثر اعمال میں آپ نے خدا تعالیٰ کے ذکر کی طرف لوگوں کو متوجہ کیا ہے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ آپ نہ صرف خود ہی ذکر الہی میں زیادہ مشغول رہتے تھے بلکہ دوسروں سے بھی چاہتے تھے کہ وہ بھی یاد الہی میں مشغول رہیں جو کہ آپ کے کمال محبت پر دال ہے۔میں نے بہت آدمی دیکھتے ہیں کہ ذرا عبادت کی اور مغرور ہو گئے۔چند دن کی نمازوں یا عبادتوں کے بعد وہ اپنے آپ کو فرعون بے سامان یا فخر اولیاء سمجھنے لگتے ہیں اور دنیا وَمَا فِيْهَا ان کی نظروں میں حقیر ہو جاتی ہے۔بڑے سے بڑے آدمی کی حقیقت کچھ نہیں جانتے بلکہ انسان کا تو کیا کہنا ہے خدا تعالیٰ پر بھی اپنا احسان جتاتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ جو عبادات ہم نے کی ہیں گویا خدا تعالیٰ پر احسان کیا ہے اور وہ ہمارا ممنون ہے کہ ہم نے اس کی عبادت کی ورنہ اگر عبادت نہ کرتے تو وہ کیا کر لیتا۔جو لوگ اس طرز کے نہیں ہوتے اُن میں سے بھی اکثر ایسے دیکھے گئے ہیں کہ عبادت کر کے کچھ تکبر ضرور آ جاتا ہے اور بہت ہی کم ہیں کہ جو عبادت کے بعد بھی اپنی حالت پر قائم رہیں اور یہی نیکوں کا گروہ ہے۔پھر سمجھ سکتے ہو کہ نیکوں کے سردار اور نبیوں کے الله سر برآورده حضرت رسول کریم ﷺ کا کیا حال ہو گا۔آپ تو گل خوبیوں کے جامع اور گل نیکیوں کے سرچشمہ تھے۔عبادت کسی تکبر یا بڑائی کے لیے کرنا تو الگ رہا جس قدر خدا تعالیٰ کی بندگی بجالاتے اتنی ہی ان کی