سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 125 of 535

سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل) — Page 125

سيرة النبي علي 125 جلد 1 میں سو رہا تھا کہ میں نے دیکھا میرے دونوں ہاتھوں میں دو کڑے ہیں جو سونے کے ہیں ان کا ہونا مجھے کچھ نا پسند سا معلوم ہوا۔اس پر مجھے خواب میں وحی نازل ہوئی کہ میں ان پر پھونکوں۔جب میں نے پھونکا تو وہ دونوں اڑ گئے۔پس میں نے تعبیر کی کہ دو جھوٹے ہوں گے جو میرے بعد نکلیں گے ایک تو عنسی ہے اور دوسرا مسیلمہ۔اس واقعہ سے معلوم ہوسکتا ہے کہ آنحضرت ﷺ کو خدا تعالیٰ پر کیسا یقین تھا اور آپ خدا تعالیٰ کی مدد پر کیسے مطمئن تھے۔آپ کے چاروں طرف کافروں کا زور تھا جو ہر وقت آپ کو دکھ دینے اور ایذا پہنچانے میں مشغول رہتے تھے اور جن جن ذرائع سے ممکن ہوتا آپ کو تکلیف پہنچاتے تھے۔قیصر و کسری بھی اپنے اپنے حکام کو آپ کے مقابلہ کے لیے احکام پر احکام بھیج رہے تھے۔بنی غسان لڑنے کے لیے تیاریاں کر رہے تھے۔ایرانی اس بڑھتی ہوئی طاقت کو حسد و حیرت کی نگاہوں سے دیکھ رہے تھے۔ہر ایک حکومت اس نئی تحریک پر شک و شبہ کی نگاہیں ڈال رہی تھی۔ایسے وقت صلى الله میں جب تک ایک لشکر جرار آنحضرت ﷺ کے اردگرد جمع نہ ہوتا آپ کے لیے اپنے دشمنوں کی زد سے بچنا بظا ہر مشکل بلکہ ناممکن نظر آتا تھا۔مدینہ منورہ سے لے کر مکہ مکرمہ تک کی فتوحات نے آپ کو ہر ایک آس پاس کی حکومت کے مد مقابل کھڑا کر دیا تھا اور دور بین نگاہیں ابتدائے امر میں ہی اس بڑھنے والی طاقت کو تباہ کر دینے کی فکر میں تھیں کیونکہ انہیں یقین تھا کہ یہ طاقت اگر اور زیادہ بڑھ گئی تو ہمارے بڑے بڑے قصور 45 کی اینٹ سے اینٹ بجا دے گی۔پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ان عظیم الشان مظاہروں کے مقابلہ کے لیے جو کچھ بھی تیاری کرتے کم تھی۔انسانی عقل ایسی حالت میں جس طرح دوست و دشمن کو اپنے ساتھ ملانا چاہتی ہے اور جن جن تدابیر سے غیروں کو بھی اپنے اندر شامل کرنا چاہتی ہے وہ تاریخ کے پڑھنے والوں کو آسانی سے سمجھ میں آ سکتی ہیں۔لیکن وہ میرا پیارا زمینی نہیں بلکہ آسمانی تھا۔بڑھتے ہوئے لشکر اور دوڑتے