سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 123 of 535

سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل) — Page 123

سيرة النبي علي 123 جلد 1 آپ کو تو کل تھا اور اُس پر بھروسہ کرتے تھے اور یہ وہ تو کل کا اعلیٰ مقام ہی تھا کہ جس پر قائم ہونے کی وجہ سے دنیا داروں کے خلاف آپ کی توجہ بجائے دنیاوی سامانوں۔کے آسمانی اسباب پر پڑتی تھی۔جیسا کہ میں پہلے ثابت کر آیا ہوں رسول کریم ﷺ کو کسی کام مسیلمہ کا دعویٰ میں بھی دنیا اور اہلِ دنیا کی طرف توجہ نہ تھی اور ارضی اسباب کی طرف آپ آنکھ اٹھا کر بھی نہ دیکھتے تھے بلکہ ہر کام میں آپ کی نظر خدا تعالیٰ ہی کی طرف لگی رہتی کہ وہی کچھ کرے گا۔گویا کہ تو کل کا ایک کامل نمونہ تھے جس کی نظیر نہ پہلے صلى الله انبیاء میں ملتی ہے نہ آپ کے بعد آپ کے سے تو کل والا کوئی انسان پیدا ہوا ہے۔مسیلمہ کے نام سے سب مسلمان واقف ہیں اس شخص نے رسول کریم ع کے بعد حضرت ابوبکر کی خلافت میں سخت مقابلہ کیا تھا۔اگر چہ رسول کریم ﷺ کے زمانہ میں ہی یہ شخص نبوت کا دعویٰ کر بیٹھا تھا مگر مقابلہ اور جنگ حضرت ابوبکر کے لشکر سے ہی ہوا اور انہی افواج قاہرہ نے اس کو شکست دی۔مسیلمہ رسول کریم ﷺ کی زندگی میں ایک لشکر جرار لے کر آپ کے پاس مدینہ میں آیا اور آپ سے اس بات کی درخواست کی کہ اگر آپ اسے اپنے بعد خلیفہ بنا لیں تو وہ اپنی جماعت سمیت آپ کی اتباع اختیار کر لے گا اور اسلام کی حالت چاہتی تھی کہ آپ اس ذریعہ کو اختیار کر لیتے اور اس کی مدد سے فائدہ اٹھا لیتے لیکن جس پاک وجود کو خدا تعالیٰ کی طاقت پر بھروسہ اور تو کل تھا اور وہ انسانی منصوبوں کی ذرہ بھر بھی پرواہ نہ کر سکتا تھا آپ نے اس کی درخواست کو فوراً ردکر دیا۔حضرت ابن عباس فرماتے ہیں قَدِمَ مُسَيْلِمَةُ الْكَذَّابُ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَعَلَ يَقُوْلُ إِنْ جَعَلَ لِيْ مُحَمَّدٌ الْأَمُرَ مِنْ بَعْدِهِ تَبِعْتُهُ وَقَدِمَهَا فِي بَشَرٍ كَثِيرٍ مِنْ قَوْمِهِ فَأَقْبَلَ إِلَيْهِ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعَهُ ثَابِتُ بْنُ قَيْسِ بْنِ شَمَّاسِ وَفِي يَدِ رَسُوْلِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ