سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 116 of 535

سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل) — Page 116

سيرة النبي علي خلاف ہے۔116 جلد 1 مگر ہمارا رسول فِدَاهُ اَبِيْ وَأُمِّی کیا کرتا ہے؟ حضرت ابو بکر فرماتے ہیں كُنتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْغَارِ فَرَفَعْتُ رَأْسِيْ فَإِذَا أَنَا بِأَقْدَامِ الْقَوْمِ فَقُلْتُ يَا نَبِيَّ اللهِ لَوْ أَنَّ بَعْضَهُمْ طَأْطَأَ بَصَرَهُ رَانَا قَالَ أُسْكُتُ يَا أَبَا بَكْرِ اثْنَانِ اللَّهُ ثَالِتُهُمَا 39 میں رسول کریم ﷺ کے ساتھ غار میں تھا میں نے اپنا سر اٹھا کر نظر کی تو تعاقب کرنے والوں کے پاؤں دیکھے۔اس پر میں نے رسول کریم ﷺ سے عرض کیا یا رسول اللہ ! اگر کوئی نظر نیچی کرے گا تو ہمیں دیکھ لے گا تو آپ نے جواب میں ارشاد فرمایا چُپ اے ابی بکر ! ہم دو ہیں ہمارے ساتھ تیسرا خدا ہے۔(پھر وہ کیونکر دیکھ سکتے ہیں) اللہ اللہ ! کیا تو کل ہے۔دشمن سر پر کھڑا ہے اور اتنا نز دیک ہے کہ ذرا آنکھ نیچی کرے اور دیکھ لے لیکن آپ کو خدا تعالیٰ پر ایسا یقین ہے کہ باوجود سب اسباب مخالف کے جمع ہو جانے کے آپ یہی فرماتے ہیں کہ یہ کیونکر ہوسکتا ہے۔خدا تو ہمارے ساتھ ہے پھر وہ کیونکر دیکھ سکتے ہیں؟ کیا کسی ماں نے ایسا بچہ جنا ہے جو اس یقین اور ایمان کو لے کر دنیا میں آیا ہو؟ یہ جرات و بہادری کا سوال نہیں بلکہ تو کل کا سوال ہے ،خدا پر بھروسہ کا سوال ہے۔اگر جرات ہی ہوتی تو آپ یہ جواب دیتے کہ خیر پکڑ لیں گے تو کیا ہوا ہم موت سے نہیں ڈرتے مگر آپ کوئی معمولی جرنیل یا میدانِ جنگ کے بہادر سپاہی نہ تھے آپ خدا کے رسول تھے اس لیے آپ نے نہ صرف خوف کا اظہار نہ کیا بلکہ حضرت ابوبکر کو بتایا کہ دیکھنے کا تو سوال ہی نہیں ہے خدا ہمارے ساتھ ہے اور اس کے حکم کے ماتحت ہم اپنے گھروں سے نکلے ہیں پھر ان کو طاقت ہی کہاں مل سکتی ہے کہ یہ آنکھ نیچی کر کے ہمیں دیکھیں۔یہ وہ تو کل ہے جو ایک جھوٹے انسان میں نہیں ہوسکتا، جو ایک پر فریب دل میں