سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 115 of 535

سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل) — Page 115

سيرة النبي علي 115 جلد 1 ہے اور جہاں زیادہ ضرورت ہو وہاں اس فن کی ترقی بھی ہو جاتی ہے اس لیے عرب اور اس قسم کے دیگر ممالک میں جہاں رسول کریم ﷺ فِدَاهُ أَبِي وَ أُمِّي ) سے پہلے کوئی باقاعدہ حکومت نہ تھی اور جرائم کی کثرت تھی یہ پیشہ بڑے زوروں پر تھا۔نہایت قابل وثوق سمجھا جاتا تھا۔پس کھوجی کا یہ کہہ دینا کہ آپ ضرور یہاں تک آئے ہیں ایک بہت بڑا ثبوت تھا اور ایسی حالت میں غار کے اندر بیٹھے ہوؤں کا جو حال ہونا چاہیے وہ سمجھ میں آ سکتا ہے۔وہ کیسا وقت ہو گا جب رسول کریم ﷺ اور حضرت ابوبکر دونوں بغیر سلاح و ہتھیار کے غار ثور کے اندر بیٹھے ہوں گے اور دشمن سر پر کھڑا باتیں بنا رہا ہو گا۔غار ثور کوئی چھوٹی سی غار نہیں جس کا منہ ایسا تنگ ہو کہ جس میں انسان کا گھسنا مشکل سمجھا جائے یا جس کے اندر جھانکنا مشکل ہو بلکہ ایک فراخ منہ کی کھلی غار ہے جس کے اندر جھانکنے سے آسانی سے معلوم ہوسکتا ہے کہ کوئی اندر بیٹھا ہے یا نہیں۔پس ایسی حالت میں دنیاوی اسباب کے لحاظ سے مشرکین مکہ کے لیے یہ بات بالکل قرین قیاس بلکہ ضروری تھی کہ وہ کھوجی کے کہنے کے مطابق ذرا آنکھیں جھکا کر دیکھ لیتے کہ آیا رسول کریم ﷺ غار میں تو نہیں بیٹھے۔اور یہ کوئی ایسا عظیم الشان کام نہ تھا کہ جسے وہ لا پرواہی سے چھوڑ دیتے کہ ایسے ضعیف خیال کی بنا پر اتنی محنت کون برداشت کرے۔پس ایسے انسانوں کا جو ایسے خطرہ کی حالت میں اس غار میں بیٹھے ہوئے ہوں گھبرانا اور خوف کرنا بالکل فطرت کے مطابق ہوتا اور میں نہیں سمجھتا کہ کوئی بہادر سے بہادر انسان بھی اُس وقت خوف نہ کرتا۔لیکن اگر کوئی ایسا جری انسان ہو بھی جو ایسے وقت میں اپنی جان کی پرواہ نہ کرے اور بے خوف بیٹھا رہے اور سمجھ لے کہ اگر دشمن نے پکڑ بھی لیا تو کیا ہوا آخر ایک دن مرنا ہے تو بھی یہ امر بالکل فطرت انسانی کے مطابق ہوگا کہ ایسا آدمی جو ایسے مقام پر ہو کم سے کم یہ یقین کر لے کہ یہ لوگ ہمیں دیکھ ضرور لیں گے کیونکہ عین سرے پر پہنچ کر اور ایسی یقینی شہادت کے باوجود غار میں نظر بھی نہ ڈالنا بالکل اسباب کے