سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 112 of 535

سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل) — Page 112

سيرة النبي علي 112 جلد 1 موسی کا خدا، یونس کا خدا، ایوب کا خدا، داؤڈ کا خدا، سلیمان کا خدا، مسیح کا خدا تھا وہی میرا خدا ہے۔اُس کی طاقتیں کبھی زائل نہیں ہوتیں اور وہ ایک دم کے لیے غافل نہیں ہے۔سراقہ بن مالک بن جعشم لالچ اور دشمنی سے دیوانہ ہو کر آتا ہے اور دور سے دیکھ کر آپ کی طرف گھوڑا دوڑا دیتا ہے اس کے دل میں امید دریا کی طرح لہریں مارتی ہے۔وہ نہ صرف اپنے مذہب کی توہین کرنے والے کے خون سے اپنے ہاتھ رنگ کر اپنے سوختہ دل کو تسکین دینا چاہتا ہے بلکہ دوسو اونٹ کا انعام، جو اسے اپنی قوم میں ایک بہت بڑا رتبہ دینے کے لیے کافی تھے اس کی ہمت کو اور بھی بلند کر دیتا ہے۔جس طرح شکاری اپنے شکار کو دیکھ کر لپکتا ہے اُسی طرح وہ رسول کریم علے کو دیکھ کر آپ کی طرف لپکتا ہے اور تیر کمان ہاتھ میں لے کر چاہتا ہے کہ آپ پر وار کرے۔وہ اکیلا نہیں بلکہ ایک نعرہ مار کر وہ اپنے اردگرد ہزاروں آدمیوں کو جمع کر سکتا ہے کیونکہ رسول کریم ہے اس وقت اُسی کے علاقہ سے گزر رہے ہیں لیکن آپ اُس وقت کیا کرتے ہیں، کیا بھاگ جاتے ہیں، کیا ڈر کر اپنے آپ کو اس کے سپرد کر دیتے ہیں ، کیا آپ کے قدم لڑکھڑانے لگ جاتے ہیں ، کیا ان کے حواس بیکار ہو جاتے ہیں، کیا اسے قتل کر کے راہِ فرار اختیار کرنے کا ارادہ کرتے ہیں؟ نہیں! وہ خدا پر توکل کرنے والا انسان ان میں سے ایک بات بھی نہیں کرتا اور سراقہ کی اتنی پر واہ بھی نہیں کرتا جتنی ایک بیل کی کی جاتی ہے۔حضرت ابوبکر با وجود اُس جرات اور بہادری کے، با وجود اُس ایمان اور یقین کے، باوجود اُس تو کل اور بھروسہ کے جو آپ میں پایا جاتا تھا مڑ مڑ کر دیکھتے جاتے ہیں کہ سراقہ اب ہمارے کس قدر نزدیک آ گیا ہے لیکن رسول کریم ﷺ اس کی پر واہ بھی نہیں کرتے اور گھبرانا اور دوڑنا تو الگ،خوف و ہراس کا اظہار تو جدا ، آپ نے ایک دفعہ منہ پھیر کر بھی اس کی طرف نہیں دیکھا جس نے سراقہ کو ورطۂ حیرت میں ڈال دیا اور اس کی آنکھیں کھل گئیں کہ میں کس انسان کا پیچھا کر رہا ہوں اور وہ مدت العمر اس نظارہ کو اپنے حافظہ سے نہیں مٹا سکا بلکہ اس خلاف معمول