سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 109 of 535

سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل) — Page 109

سيرة النبي علي 109 جلد 1 آپ نے صحابہ کو تو ہجرت کا حکم دے دیا مگر خود ان دکھوں اور تکلیفوں کے باوجود مکہ سے ہجرت نہ کی کیونکہ خدا تعالیٰ کی طرف سے کوئی اذن نہ ہوا تھا۔چنانچہ جب حضرت ابوبکر نے پوچھا کہ میں ہجرت کر جاؤں؟ تو آپ نے جواب دیا عَلَی رِسُلِكَ فَإِنِّى أَرْجُو أَن يُؤْذَنَ لِی آپ ابھی ٹھہریں امید ہے کہ مجھے بھی اجازت مل جائے۔اللہ اللہ کیا پاک انسان تھا۔دکھ پر دکھ ، تکالیف پر تکالیف پہنچ رہی ہیں سب ساتھیوں کو حکم دے دیتا ہے کہ جاؤ جس جگہ امن ہو چلے جاؤ لیکن خود اپنی جگہ سے نہیں ہلتا اور با وجود مخالفت کے اس بات کا منتظر ہے کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے کوئی حکم آئے تو میں اُس پر کار بند ہوں۔کیا کسی انسان میں یہ ہمت ہے؟ کیا کوئی ہے جو خدا تعالیٰ کی طرف ایسا متوجہ ہو کہ ایسے خطر ناک مصائب کے اوقات میں بھی دشمنوں کی مخالفت کو برداشت کرتا جائے اور جب تک خدا کا حکم نہ ہو اپنی جگہ نہ چھوڑے؟ پھر ہم دیکھتے ہیں کہ یہ دعوی ہی نہیں ہے بلکہ واقعہ میں آپ اُس وقت تک مکہ سے نہیں نکلے جب تک کہ خدا کی طرف سے حکم نہ ہوا۔حضرت عائشہ فرماتی ہیں فَبَيْنَمَا نَحْنُ يَوْمًا جُلُوسٌ فِي بَيْتِ أَبِي بَكْرٍ فِي نَحْرِ الظَّهِيْرَةِ قَالَ قَائِلٌ لِأَبِي بَكْرٍ هَذَا رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُتَقَنِّعًا فِي سَاعَةٍ لَمْ يَكُنْ يَأْتِيْنَا فِيْهَا فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ فِدَى لَهُ أَبِيْ وَأُمِّيْ وَاللَّهِ مَا جَاءَ بِهِ فِي هَذِهِ السَّاعَةِ إِلَّا أَمْرٌ قَالَتْ فَجَاءَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاسْتَأْذَنَ فَأُذِنَ لَهُ فَدَخَلَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَبِي بَكْرٍ أَخْرِجُ مَنْ عِندَكَ فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ إِنَّمَا هُمْ أَهْلُكَ بِأَبِي أَنْتَ يَا رَسُوْلَ اللهِ قَالَ فَإِنِّي قَدْ أُذِنَ لِي فِي الْخُرُوجِ فَقَالَ أَبُو بَكْرِ الصَّحَابَةَ بِأَبِي أَنْتَ يَا رَسُوْلَ اللهِ قَالَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَعَمُ 37 ہم ایک دن بیٹھے ہوئے تھے کہ عین دو پہر کے وقت رسول کریم ﷺ تشریف لائے اور سر لپیٹا ہوا تھا۔آپ اُس وقت کبھی نہیں آیا کرتے تھے۔حضرت ابوبکرؓ نے فرمایا میرے ماں باپ آپ پر فدا