سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 108 of 535

سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل) — Page 108

سيرة النبي علي 108 جلد 1 سخت تھے ) آخر اسامہ بن زید نے رسول کریم مے سے ذکر کیا مگر آپ نے جواب دیا کہ بنی اسرائیل کی عادت تھی کہ جب ان میں کوئی شریف چوری کرتا تو اسے چھوڑ دیتے مگر جب کوئی غریب چوری کرتا تو اس کا ہاتھ قطع کر دیتے۔مگر میرا یہ حال ہے کہ اگر میری بیٹی فاطمہ بھی چوری کرے تو میں اس کا بھی ہاتھ کاٹ دوں۔اس واقعہ سے معلوم ہوسکتا ہے کہ آپ کا خدا سے کیا تعلق تھا اور واقعی اللہ تعالیٰ کی طرف سے دنیا میں خلیفہ تھے کیونکہ خلیفہ اُسی کو کہتے ہیں کہ جو خدا تعالیٰ کے احکام کو دنیا میں جاری کرے اور یہ رسول کریم ﷺ ہی تھے کہ جو بغیر کسی کے خوف ملامت کے حدود اللہ کا قیام کرتے اور کسی کی رعایت نہ کرتے۔صلى الله بغیر اذنِ الہی کوئی کام نہ کرتے رسول کریم ہے کے جو تعلقات اللہ تعالیٰ سے تھے اور جس طرح آپ نے خدا سے معاملہ صاف رکھا ہوا تھا اُس پر یہ بات بھی روشنی ڈالتی ہے کہ آپ اپنے تمام کاموں میں پہلے یہ دیکھ لیتے کہ خدا تعالیٰ کا کیا حکم ہے اور جب تک خدا تعالیٰ کی طرف سے کوئی حکم نہ ہوتا آپ کسی کام کے کرنے پر دلیری نہ کرتے۔چنانچہ مکہ سے باوجود ہزاروں قسم کی تکالیف کے آپ نے ہجرت نہیں کی۔ہاں صحابہ کو حکم دے دیا کہ اگر وہ چاہیں تو ہجرت کر جائیں اور لوگوں کی شرارت کو دیکھ کر صحابہ کو ہجرت کرنی بھی پڑی اور بہت سے صحابہ حبشہ کو اور کچھ مدینہ کو ہجرت کر گئے اور صرف حضرت ابو بکر اور حضرت علی اور رسول کریم ﷺ یا اور چند صحابہ مکہ میں باقی رہ گئے۔کفار مکہ کو دوسرے لوگوں کی نسبت رسول کریم ﷺ سے فطرتاً زیادہ بغض و عداوت تھی کیونکہ وہ دیکھتے تھے کہ آپ ہی کی تعلیم کی وجہ سے لوگوں میں شرک کی مخالفت پھیلتی جاتی تھی۔وہ جانتے تھے کہ اگر وہ آپ کو قتل کر دیں تو باقی جماعت خود بخود پراگندہ ہو جائے گی اس لیے یہ نسبت دوسروں کے وہ آنحضرت علہ کو زیادہ دکھ دیتے اور چاہتے کہ کسی طرح آپ اپنے دعاوی سے باز آ جائیں لیکن باوجود ان مشکلات کے