سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 107 of 535

سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل) — Page 107

سيرة النبي ع 107 جلد 1 چھوڑ دیا جائے بلکہ بڑے دولتمند یا کوئی دنیاوی وجاہت رکھنے والے آدمی تو روپیہ اور اثر خرچ کر کے ایک ایسی جماعت اپنے ساتھ کر لیتے ہیں کہ جو مشکلات کے وقت ان کا ساتھ دیتی ہے اور باوجود قانون کی خلاف ورزی کے اپنے جتھے کی مدد سے اپنے جرائم کے اثر سے بچ جاتے ہیں۔آنحضرت ﷺ کی غیرت دینی ان قوموں میں جن کے اخلاق گر جاتے ہیں اور جن کے افراد میں طرح طرح کی بدیاں آجاتی ہیں ان میں خصوصاً یہ رواج عام ہو جاتا ہے کہ بڑے لوگ قانون کے خلاف عمل کر کے بھی بچ جاتے ہیں اور صرف غرباء ہی سزا پاتے ہیں۔صلى الله رسول کریم ہے اس بات کے سخت مخالف تھے اور آپ کا جو معاملہ خدا کے ساتھ تھا اور جس طرح آپ تمام بنی نوع انسان کے ساتھ یکساں سلوک کرنا چاہتے تھے اس کے لحاظ سے آپ کبھی پسند نہ کرتے تھے کہ احکام شریعت سے امراء کو مستثنیٰ کر کے غرباء ہی کو اس کا مکلف سمجھا جائے بلکہ آپ با وجود ایک رحیم دل اور ہمدرد طبیعت رکھنے کے ہمیشہ احکامِ شریعت کے جاری کرنے میں محتاط رہتے اور مجرمین کو سزا سے بچنے نہ دیتے اور جس طرح آپ غرباء کو سزا دیتے امراء بھی اُسی طرح احکامِ شریعت کے ماتحت جکڑے جاتے اور اس معاملہ میں آپ بڑے غیور تھے۔حضرت عائشہؓ سے روایت ہے کہ أَنَّ امْرَأَةً مِنْ بَنِي مَخْرُوْمٍ سَرَقَتْ فَقَالُوْا مَنْ يُكَلِّمُ فِيْهَا النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ يَجْتَرِءُ أَحَدٌ أَنْ يُكَلِّمَهُ فَكَلَّمَهُ أَسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ فَقَالَ إِنَّ بَنِي إِسْرَائِيْلَ كَانَ إِذَا سَرَقَ فِيْهِمُ الشَّرِيْفُ تَرَكُوْهُ وَإِذَا سَرَقَ فِيْهِمُ الضَّعِيْفُ قَطَعُوْهُ لَوْ كَانَتْ فَاطِمَةُ لَقَطَعْتُ يَدَهَا 36 بنی مخزوم کی ایک عورت نے چوری کی اس پر لوگوں نے چاہا کہ کون ہے جو رسول کریم ﷺ سے اس عورت کے معاملہ میں سفارش کرے لیکن کسی نے اس کی جرات نہ کی ( کیونکہ رسول کریم می حدود کے قائم کرنے میں بڑے