سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل) — Page 104
سيرة النبي علي 104 صلى الله جلد 1 گئی )۔کعب نے کہا ہلال ابن امیہ کی جورو ( خولہ بنت عاصم ) آنحضرت ﷺ کے پاس آئی اور کہنے لگی یا رسول اللہ ! ہلال ابن امیہ ( میرا خاوند ) بوڑھا پھونس ہے۔اگر میں اُس کا کام کرتی رہوں تو کیا آپ اس کو برا سمجھتے ہیں؟ آپ نے فرمایا نہیں ( کام کاج کرنے میں کوئی قباحت نہیں) پر وہ تجھ سے صحبت نہ کرے۔اس نے کہا خدا کی قسم ! وہ تو کہیں چلتا پھرتا بھی نہیں ہے۔جب سے یہ واقعہ ہوا ہے تب سے برابر رو دھو رہا ہے۔آج تک وہ اسی حال میں ہے۔کعب نے کہا مجھ سے بھی میرے بعض عزیزوں نے کہا تم بھی اگر اپنی جورو کے باب میں آنحضرت ﷺ سے اجازت مانگو ( کہ وہ تمہاری خدمت کرتی رہے ) تو مناسب ہے جیسے آنحضرت ﷺ نے ہلال بن امیہ کی جورو کو خدمت کی اجازت دی ( تم کو بھی اجازت دیں گے ) کعب نے کہا میں تو خدا کی قسم کبھی اس باب میں آنحضرت ﷺ سے اجازت نہیں مانگنے کا۔کیونکہ مجھ کو معلوم نہیں کہ آنحضرت عل کیا فرما ئیں اجازت دیں یا نہ دیں) میں جوان آدمی ہوں ہلال کی طرح ضعیف اور ناتواں نہیں ہوں) خیر اس کے بعد دس راتیں اور گزریں اب پچاس را تیں پوری ہو گئیں۔اُس وقت سے جب سے آپ نے لوگوں کو ہم سے سلام کلام کی ممانعت فرما دی تھی پچاسویں رات کی صبح کو جب میں فجر کی نماز پڑھ کر اپنے گھر کی چھت پر بیٹھا تھا تو جیسے اللہ تعالیٰ نے قرآن شریف میں فرمایا وَضَاقَتْ عَلَيْهِمْ أَنْفُسُهُم 35 میرا دل تنگ ہو رہا تھا اور زمین اتنی کشادہ ہونے پر بھی مجھ پر تنگ ہو گئی تھی۔اتنے میں میں نے ایک پکارنے والے کی آواز سنی جو سلع پہاڑ پر چڑھ کر پکار رہا تھا ( یہ ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ تھے ) کعب بن مالک ! خوش ہو جا۔یہ سنتے ہی میں سجدے میں گر پڑا اور مجھ کو یقین ہو گیا۔اب میری مشکل صلى الله دور ہوئی اور آنحضرت ﷺ نے فجر کی نماز کے بعد لوگوں کو خبر کر دی کہ اللہ تعالیٰ نے ہمارا قصور معاف کر دیا۔اب لوگ خوشخبری دینے میرے پاس اور میرے دونوں ساتھیوں مرارہ اور بلال) کے پاس جانے لگے۔ایک شخص (زبیر بن عوام ) گھوڑا کراتے