سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 101 of 535

سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل) — Page 101

سيرة النبي ع 101 جلد 1 خیالات میرے دل سے مٹ گئے اور میں نے یہ سمجھ لیا کہ جھوٹی باتیں بنا کر میں آپ کے غصے سے بچنے والا نہیں۔اب میں نے یہ ٹھان لیا ( جو ہونا ہو وہ ہو ) میں تو سیچ سیچ کہہ دوں گا۔خیر صبح کے وقت آپ مدینہ میں داخل ہوئے۔آپ کی عادت تھی جب سفر سے تشریف لاتے تو پہلے مسجد میں جاتے وہاں ایک دوگانہ ادا فرماتے (آپ نے مسجد میں دو گانہ ادا فرمایا ) پھر لوگوں سے ملنے کے لیے بیٹھے۔اب جو جو (منافق) لوگ پیچھے رہ گئے تھے انہوں نے آنا شروع کیا اور لگے اپنے اپنے عذر بیان کرنے اور قسمیں کھانے۔ایسے لوگ 80 سے کچھ اوپر تھے۔آپ نے ظاہر میں اُن کا عذرمان لیا، اُن سے بیعت لی ، اُن کے واسطے دعا کی ، ان کے دلوں کے بھید کو خدا پر رکھا۔کعب کہتے ہیں میں بھی آیا میں نے جب آپ کو سلام کیا تو آپ مسکرائے۔مگر جیسے غصے میں کوئی آدمی مسکراتا ہے۔پھر فرمایا آؤ۔میں گیا۔آپ کے سامنے بیٹھ گیا۔آپ نے پوچھا کعب! تو کیوں پیچھے رہ گیا ؟ تو نے تو سواری بھی خرید لی تھی۔میں نے عرض کیا۔بے شک اگر کسی دنیا دار شخص کے سامنے میں اس وقت بیٹھا ہوتا تو باتیں بنا کر اس کے غصے سے بچ جاتا۔میں خوش تقریر بھی ہوں مگر خدا کی قسم ! میں یہ سمجھتا ہوں کہ اگر آج میں جھوٹ بول کر آپ کو خوش کرلوں تو کل اللہ تعالیٰ (اصل حقیقت کھول کر ) پھر آپ کو مجھ پر غصے کر دے گا (اس سے فائدہ ہی کیا ہے ) میں سچ ہی کیوں نہ بولوں۔گو آپ اس وقت سچ بولنے کی وجہ سے مجھے پر غصہ کریں گے مگر آئندہ اللہ تعالیٰ کی مغفرت کی مجھ کو امید تو رہے گی۔خدا کی قسم! ( میں سراسر قصور وار ہوں ) زور، طاقت، قوت ، دولت سب میں کوئی میرے برابر نہ تھا اور میں یہ سب چیزیں ہوتے ہوئے پیچھے رہ گیا۔یہ سن کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کعب نے سچ سچ کہہ دیا۔کعب ! اب ایسا کر تو چلا جا، جب تک اللہ تعالیٰ تیرے بارہ میں کوئی حکم نہ اتارے۔میں چلا۔بنی سلمہ کے کچھ لوگ اٹھ کر میرے پیچھے ہوئے اور کہنے لگے خدا کی قسم! ہم کو تو معلوم نہیں کہ تو نے اس سے پہلے بھی کوئی قصور کیا ہو۔تو نے اور لوگوں کی طرح جو پیچھے رہ