سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل) — Page 87
سيرة النبي علي۔87 الله جلد 1 اس بات پر شاہد ہے کہ جو ایمان وخشیت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم میں تھی اس کی نظیر کسی اور انسان میں نہیں مل سکتی۔انسان دعا اُس سے مانگتا ہے جس پر یقین ہو کہ یہ کچھ کر سکتا ہے۔ایک موجد جو بتوں کی بیکسی سے واقف ہے کبھی کسی بت کے آگے جا کر ہاتھ نہیں پھیلائے گا کیونکہ اسے یقین ہے کہ یہ بت کچھ نہیں کر سکتے لیکن ایک بت پرست اُن کے آگے بھی ہاتھ جوڑ کر اپنا حالِ دل کہہ سناتا ہے کیونکہ اسے ایمان ہے کہ یہ بت بھی خدا تعالیٰ کے قرب کا ایک ذریعہ ہیں۔فقیر بھی اس بات کو دیکھ لیتے ہیں کہ فلاں شخص کچھ دے گا یا نہیں۔اور جس پر انہیں یقین ہو کہ کچھ دے گا اُس سے جا کر طلب کرتے ہیں۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آدمی اس سے کچھ مانگتا ہے جس پر اسے ایمان ہو کہ اس سے ملے گا۔رسول کریم ﷺ کا ہر وقت خدا سے امداد طلب کرنا ، نصرت کی درخواست کرنا اور اٹھتے بیٹھتے اُسی کے کواڑ کھٹکھٹانا، اسی سے حاجت روائی چاہنا کیا اُس بے مثل یقین اور ایمان کو ظاہر نہیں کرتا جو آپ کو خدا پر تھا۔اور کیا اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ آپ کا دل یادِ الہی اور خشیت ایزدی سے ایسا معمور و آباد تھا که توجہ الی المخلوق کا اس میں کوئی خانہ خالی ہی نہ تھا۔اگر یہ بات کسی اور انسان میں بھی پائی جاتی تھی اور اگر کوئی اور شخص بھی آپ کے برابر یا آپ کے قریب بھی ایمان رکھتا تھا اور خدا کا خوف اُس کے دل پر مستولی تھا تو اُس کے اٹھنے بیٹھنے ، چلنے پھرنے میں بھی خشیت الہی کے یہ آثار پائے جانے ضروری ہیں مگر میں دعویٰ سے کہتا ہوں کہ زمین کے ہر گوشہ میں چراغ لے کر گھوم جاؤ، تاریخوں کی ورق گردانی کرو، مختلف مذاہب کے مقتداؤں کے جیون چرتر ، سوانح عمریاں اور بایو گرافیاں پڑھ جاؤ مگر ایسا کامل نمونہ کسی انسان میں نہ پاؤ گے۔اور وہ خوف خدا جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہر ایک قول سے ظاہر ہوتا ہے اور وہ حزم واحتیاط جو آپ کے ہر ایک فعل سے ٹپکتی ہے اُس کا عشر عشیر بھی کسی دوسرے انسان کی زندگی میں پایا جانا محال ہے۔وہ دعا جس کا میں نے اوپر ذکر کیا ہے یہ ہے اللهُمَّ إِنِّي أَعُوْذُ بِكَ مِنَ الْكَسَلِ