سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 85 of 535

سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل) — Page 85

سيرة النبي علي 85 جلد 1 کی ہی نہیں اور اُس وقت تک نہ سوتا جب تک اپنی جان کو پورے طور سے خدا کے سپرد کر کے دنیا وَ مَا فِيْهَا سے براءت نہ ظاہر کر لیتا اور خدا کے ہاتھ میں اپنا ہاتھ نہ دے لیتا۔لطیفہ الله اس دعا سے ایک عجیب نکتہ معلوم ہوتا ہے اور وہ یہ کہ رسول کریم ﷺ کو اپنی نبوت پر اس قدر یقین کامل تھا کہ آپ عین تنہائی میں ہر روز سوتے وقت خدا کے سامنے اقرار فرماتے کہ مجھے اپنی نبوت پر ایمان ہے اور اسی طرح قرآن شریف پر بھی ایمان ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ اپنی تعلیم کو لوگوں کے لیے ہی قابل عمل نہیں جانتے تھے بلکہ سب سے پہلے اپنے نفس کو کہتے تھے کہ یہ حکم خدا کا آیا ہے اور اس کا رسول یوں کہتا ہے کہ اس پر ایمان لا۔اسی لیے تو آپ فرماتے ہیں کہ آمَنْتُ بِكِتَابِكَ الَّذِي أَنْزَلْتَ وَنَيْكَ الَّذِي أَرْسَلْتَ۔آپ ابتلا ؤں اور عذابوں بعض لوگوں کی عادت ہوتی ہے وہ خواہ مخواہ اپنے آپ کو فتنوں میں ڈالتے ہیں اور اس سے پناہ مانگتے رہتے طرح اپنے نفس کا امتحان کرتے ہیں مگر یہ لوگ بعض دفعہ ان فتنوں میں ایسے گرتے ہیں کہ پھر سنبھلنے کی طاقت نہیں رہتی اور بجائے ترقی کرنے کے ان کا قدم نیچے ہی نیچے چلا جاتا ہے۔کچھ آدمی ایسے ہوتے ہیں جو خود بڑے بڑے کام طلب کرتے ہیں کہ ہمیں اگر ایسی مصیبت کا موقع ملے تو ہم یوں کریں اور یوں کریں اور اس طرح دین کی خدمت کریں لیکن رسول کریمﷺ کی سنت اس کے خلاف ہے۔آپ کبھی پسند نہ فرماتے تھے کہ کوئی انسان خدا تعالیٰ سے ابتلاؤں کی خواہش کرے کیونکہ کوئی کیا جانتا ہے کہ کل کیا ہو گا۔ممکن ہے کہ خدا کی غیرت اسے تباہ کر دے۔ممکن ہے کہ اس کے اپنے اعمال کی کمزوری اس کے آگے آ جائے۔ممکن ہے کہ شیطان اس کے دل پر تسلط پا کر اسے خراب کر دے اور یہ گمراہ ہو جائے۔چنانچہ آپ خود بھی بجائے ابتلاؤں کی آرزو کرنے کے ان سے بچنے کی دعا