سیرت النبی ؐ — Page 37
اولوں کے پانی کے ساتھ دھو دے اور میرے دل کو ایسا صاف کر دے کہ جیسے تو نے سفید کپڑے کو میل سے صاف کر دیا ہے اور مجھ میں اور گناہوں میں اتنا فاصلہ حائل کر دے جتنا تو نے مشرق و مغرب میں رکھا ہے۔اے وہ انسان جسے رسول کریم صلی یا یہ ہم سے عداوت ہے تو بھی ذرا اس دعا کو غور سے پڑھا کر اور دیکھ کہ وہ گناہوں سے کس قدر متنفر تھے۔وہ بدیوں سے کس قدر بیزار تھے۔وہ کمزوریوں سے کس طرح بری تھے۔وہ عیبوں سے کس قدر پاک تھے اور ان کا دل خشیت الہی سے کیسا پر تھا فَتَدَبَّرُ وَاهْتَدِ بِهُدُاه غیرت دینی اس بات کے بتانے کے بعد کہ رسول کریم صلی ایم کی زندگی اور آپ کا ہر فعل خشیت الہی کی ایک زندہ مثال ہے میں آپ کی غیرت دینی کے متعلق کچھ لکھنا چاہتا ہوں۔بہت سے لوگ اعلیٰ سے اعلیٰ اخلاق کے نمونہ دکھاتے ہیں مگر یہ اخلاق اسی وقت تک ظاہر ہوتے ہیں جب تک انہیں کوئی تکلیف نہ پہنچے۔ذرا ان کے منشاء کے خلاف کوئی بات ہو اور ان کی آنکھیں لال پیلی ہو جاتی ہیں اور منہ سے جھاگ آنی شروع ہو جاتی ہے۔اور اگر اشارہ بھی کوئی انہیں ایسی بات کہ بیٹھے جس میں وہ اپنی ہتک سمجھتے ہوں تو وہ اسے برداشت نہیں کر سکتے بلکہ ہرممکن سے ممکن طریق سے اس کا بدلہ لینے کی کوشش کرتے ہیں اور جب تک مد مقابل سے بدلہ نہ لے لیں انہیں چین نہیں آتا۔مگر انہیں لوگوں کو دیکھا جاتا ہے کہ جب خدا اور رسول کی کوئی ہتک کرتا ہے تو اسے بڑی خوشی سے سنتے ہیں اور ان کو وہ قطعا بری نہیں معلوم ہوتی اور ایسی مجلسوں میں اٹھنا بیٹھنا 37