سیرت النبی ؐ — Page 38
نا پسند نہیں کرتے جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ کسی وقت ان سے بھی کوئی غلطی ہو جاتی ہے اور اس طرح ان کا دین برباد ہو جاتا ہے۔جتنے اخلاق اخلاق اور تہذیب تہذیب پکارنے والے لوگ ہیں ان کی زندگیوں کا مطالعہ کر کے دیکھ لوضرور ان میں یہ بات پائی جائے گی کہ دوسروں کے معاملہ میں اور خصوصا دین کے معاملہ میں غیرت کے اظہار کو وہ بدی خلقی اور بد تہذیبی قرار دیتے ہیں مگر اپنے معاملہ میں ان کا معیارِ اخلاق ہی اور ہے اور وہاں اعلیٰ اخلاق سے کام لینا ان کے لئے ناممکن ہو جاتا ہے۔مؤمن انسان کا کام اس کے بالکل برخلاف ہونا چاہئے اور اسے اخلاق کا اعلیٰ نمونہ اپنے معاملات میں دکھانا چاہئے اور حتی الوسع کوشش کرنی چاہئے کہ بہت سے موقعوں پر چشم پوشی سے ہی کام لے اور جب تک عفو سے کام نکل سکتا ہو اور اس کا خراب نتیجہ نہ نکلتا ہو اسے ترک نہ کرے لیکن دین کے معاملہ میں قطعا بے غیرتی کا اظہار نہ کرے اور ایسے تمام مواقع جن میں دین کی ہتک ہوتی ہو ان سے الگ رہے اور ایسی تمام مجلسوں اور صحبتوں سے پر ہیز کرے کہ جن میں دین کی ہتک اور اس سے ٹھٹھا ہوتا ہو اور دین پر جس قدر اعتراض ہوں ان کو دور کرنے کی کوشش کرے اور اگر وہ ایسا نہیں کرتا تو معلوم ہوگا کہ وہ خدا تعالیٰ کی قدوسیت قائم کرنے کی نسبت اپنے نفس پر اعتراضات دور کرنے کے لئے زیادہ کوشاں رہتا ہے اور جتنا اسے اپنی صفائی کا خیال ہے اتنا خدا تعالیٰ اور دینِ حق کی تنز ہیہ کا خیال نہیں۔رسول کریم صلی بینم کی زندگی اس معاملہ میں بھی عام انسانوں سے بالکل مختلف ہے اور آپ "بجائے اپنے نفسانی معاملات اور ذاتی تکالیف پر اظہار غضب وغصہ کے نہایت ملائمت اور نرمی سے کام لیتے اور اگر کوئی اعتراض کرتا تو اس پر خاموش رہتے اور جب تک 38