سیرت النبی ؐ — Page 26
بدر کا واقعہ:- بدر کے موقع پر آنحضرت سال ایتم سے جو ظہور میں آیا وہ بھی چشم بصیرت رکھنے والوں کی آنکھوں کو خیرہ کرنے کیلئے کافی ہے اور اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ کے دل میں اللہ تعالیٰ کا کس قدر خوف تھا۔جنگ بدر کے موقع پر جبکہ دشمن کے مقابلہ میں آپ اپنے جاں شار بہاروں کو لے کر پڑے ہوئے تھے۔تائید الہی کے آثار ظاہر تھے کفار نے اپنے قدم جمانے کیلئے پختہ زمین پر ڈیرے لگائے تھے اور مسلمانوں کے لئے ریت کی جگہ چھوڑی تھی لیکن خدا نے بارش بھیج کر کفار کے خیمہ گاہ میں کیچڑ ہی کیچڑ کر دیا اور مسلمانوں کی جائے قیام مضبوط ہو گئی۔اس طرح اور بھی تائیدات سماوی ظاہر ہورہی تھیں لیکن باوجود اس کے اللہ تعالیٰ کا خوف آنحضرت صلی شیا کی یتیم کے دل پر ایسا غالب تھا کہ سب وعدوں اور نشانات کے باوجود اس کے غناء کو دیکھ کر گھبراتے تھے اور بیتاب ہو کر اس کے حضور میں دعا فرماتے تھے کہ مسلمانوں کو فتح دے۔چنانچہ حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي قُبَةِ اللَّهُمْ إِلَىٰ أَنْشُدُكَ عَهَدَكَ وَوَعْدَكَ اللَّهُمَّ إِنْ شِئْتَ لَمْ تُعْبَدُ بَعْدَ الْيَوْمِ فَأَخَذَا أَبُو بَكْرِ بِيَدِهِ فَقَالَ حَسْبُكَ يَارَسُوْلَ اللهِ فَقَدْ اَلْحَحْتَ عَلَىٰ رَبِّكَ وَهُوَ فِي الدِّرْعِ فَخَرَجَ وَهُوَ يَقُوْلُ سَيَهْزَمُ الْجَمْعَ وَيُوَ لُوْنَ الدُّبَرَ بَلِ السَّاعَةَ مَوْعِدُهُمْ وَالسَّاعَةُ اَدهَى وَأَمَرُّ ( بخاری کتاب الجھاد باب ما قيل في درع النبی صلی الله علیه وسلم) نبی کریم جنگ بدر میں ایک گول خیمہ میں تھے اور فرماتے تھے کہ اے میرے خدا میں تجھے تیرے عہد اور وعدے یاد دلاتا ہوں اور ان کے ایفاء کا طالب ہوں۔اے میرے رب اگر تو ہی (مسلمانوں کی تباہی ) چاہتا ہے تو آج کے بعد تیری عبادت کرنے والا کوئی نہ رہے گا۔اس پر حضرت ابوبکر نے آپ کا ہاتھ پکڑ لیا اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ بس کیجئے آپ نے تو اپنے رب سے دعا 26