سیرت النبی ؐ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 27 of 266

سیرت النبی ؐ — Page 27

کرنے میں حد کر دی رسول کریم سنایا کہ تم نے اس وقت زرہ پہنی ہوئی تھی آپ خیمہ سے باہر نکل آئے اور فر ما یا کہ ابھی ان لشکروں کو شکست ہو جائے گی اور وہ پیٹھ پھیر کر بھاگ جائیں گے بلکہ یہ وقت ان کے انجام کا وقت ہے اور یہ وقت ان لوگوں کے لئے نہایت سخت اور کڑوا ہے۔اللہ اللہ ! خوف خدا کا ایسا تھا کہ باوجو د وعدوں کے اس کے غناء کا خیال تھا لیکن یقین بھی ایسا تھا کہ جب حضرت ابوبکر نے عرض کی تو بآواز بلند سنا دیا کہ میں ڈرتا نہیں بلکہ خدا کی طرف سے مجھے علم ہو چکا ہے کہ دشمن شکست کھا کر ذلیل وخوار ہوگا اور آئمۃ الکفر یہیں مارے جائیں گے چنانچہ ایسا ہی ہوا۔جس جگہ پر عذاب آچکا ہو وہاں آپ نہ ٹھہر تے۔رسول کریم صلی ا یہ تم اللہ تعالی سے اس قدر خائف تھے اور اس کا تقویٰ آپ کے دل میں ایسا مستولی تھا کہ نہ صرف آپ ایسے افعال سے محفوظ تھے کہ جن سے اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کا خوف ہو اور نہ صرف لوگوں کو ایسے افعال میں مبتلا ہونے سے روکتے تھے بلکہ آپ ان مقامات میں ٹھہر نا برداشت نہ کرتے تھے جس جگہ کسی قوم پر عذاب آچکا ہو۔اور ان واقعات کو یاد کر کے ان افعال کو آنکھوں کے سامنے لا کر جن کی وجہ سے وہ عذاب نازل ہوئے آپ اس قدر غضب الہی سے خوف کرتے کہ اس جگہ کا پانی تک استعمال کرنا آپ مگر وہ جانتے چنانچہ حضرت عبداللہ بن عمر فرماتے ہیں لَمَّا نَزَلَ الْحِجْرَ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ أَمَرَهُمْ أَنْ لَا يَشْرَبُوْا مِنْ بِثْرِهَا وَلَا يَسْتَقْوْا مِنْهَا فَقَالُوْ اقَدْ عَجَنَا مِنْهَا وَاسْتَقَيْنَا فَاَ مَرَ هُمْ أَنْ يَطْرَ حُوْ اذْلِكَ الْعَجِيْنَ وَيُهْرِيْقُوْاذْلِكَ الْمَاء۔( بخاری کتاب بدء الخلق باب قول الله تعالى عز وجل والى ثمو دا خاهم صالحا) جب آنحضرت ا السلام غزوہ تبوک کے موقع پر مقام حجر پر اترے آپ نے صحابہ کو حکم دیا کہ اس کنویں سے پانی نہ پئیں اور نہ پانی بھریں یہ حکم سن کر صحابہ نے جواب دیا کہ ہم نے اس پانی سے آٹا گوند لیا 27