سیرت النبی ؐ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 254 of 266

سیرت النبی ؐ — Page 254

جرات اور زور سے آپ نے کام کیا اس کی نظیر کسی نبی میں بھی نہیں تھی۔طہارۃ النفس سخت کلامی سے پر ہیز :- کسی کو گالی دینے یا برا کہنے سے اس انسان کا تو کچھ نہیں بگڑتا لیکن پھر بھی انسان بالطبع اپنے دشمن کے خلاف سخت الفاظ استعمال کرتا ہے اور ابتدائے عالم سے یہ مرض بنی نوع انسان میں چلی آئی ہے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ گالی دینا ایک لغو کام ہے۔سخت کلامی کرنا ایک فضول حرکت ہے مگر اس کے لغو اور فضول ہونے کے باوجود گالی دینے والے گالیاں دیتے ہیں اور سخت کلامی کرنے والے سخت کلامی کرتے ہیں۔اصل بات یہ ہے کہ انسان کو جب غصہ یا جوش آئے تو وہ چاہتا ہے کہ اس کا اظہار کرے اور بہت دفعہ جب اس کے غصہ کی کوئی انتہاء نہیں رہتی اور جوش سے اس کی عقل ماری جاتی ہے تو وہ عام الفاظ میں اپنے غصہ کا اظہار نہیں کر سکتا اور جب دیکھتا ہے کہ الفاظ میں میرے غصہ کا اظہار نہی ہوسکتا تو پھر ایسے الفاظ بولتا ہے کہ جو گو اس غصہ کے اظہار کرنے والے نہ ہوں لیکن ان سے یہ ثابت ہو کہ اس شخص کو سخت طیش ہے چنانچہ اس لئے سخت طیش میں تمام برائیوں کو انسان اپنے دشمن یا دکھ دینے والے کی طرف منسوب کرتا ہے حالانکہ وہ سب برائیاں اس کی طرف منسوب نہیں ہوسکتیں لیکن اصل منشا گالی سے کمال طیش کا اظہار ہوتا ہے گو یا گالی دینا بھی ایک قسم کا مجاز ہوتا ہے جس کے ذریعہ انتہاء غضب کا اظہار کیا جاتا ہے۔جو لوگ نہایت غصیلے ہوتے ہیں اور ذراذراسی بات پر ان کا نفس جوش میں آجاتا ہے وہ گالیاں بھی زیادہ دیتے ہیں اور جو لوگ جس قدر اپنے نفس پر قابور رکھتے ہیں اسی قدر گالیوں سے بچتے ہیں کیونکہ ان کو اس قدر غصہ نہیں آتا کہ جس کو وہ عام الفاظ میں ادا نہ کر سکیں اور اگر آئے بھی تب بھی وہ اپنے نفس کو جھوٹ سے محفوظ رکھتے ہیں کیونکہ گالیاں در حقیقت ایک کمزوری ہے اور سخت طیش 254