سیرت النبی ؐ — Page 186
آپ کی شان ارفع سے ارفع تر ثابت ہوئی ہے۔نہ تو مصائب کے ایام میں آپ سے کوئی ایسی بات ظاہر ہوئی جس سے آپ پر عیب گیری کا موقع ملے نہ خوشی کے دنوں میں آپ سے کوئی ایسا فعل سرزد ہوا جس سے آپ پر اعتراض کرنے کی گنجائش پیدا ہو ہر رنگ اور شکل میں آپ دنیا کے لئے ایک قابل قدر نمونہ ثابت ہوئے ہیں۔جرات و بہادری کی نسبت تو میں لکھ چکا ہوں اس جگہ یہ بتانا چاہتا ہوں کہ آنحضرت کو اپنے حواس پر کیسا قا بو تھا اور کس طرح خطر ناک سے خطرناک مصائب میں آپ استقلال اور ٹھنڈے دل کے ساتھ غور کرنے کے عادی تھے اور آپ سے کبھی کوئی ایسی حرکت نہ ہوتی تھی جس سے کسی قسم کی گھبراہٹ ظاہر ہو اور یہ بھی کہ کیوں کر ہر ایک مصیبت میں آپ کے پیش نظر اللہ تعالیٰ ہی دکھائی دیتا تھا۔یہ تو میں پہلے لکھ چکا ہوں کہ آنحضرت صلی یہ اہم دوسرے بادشاہوں کی طرح اپنے ساتھ کوئی پہرہ یا گارڈ نہیں رکھتے تھے بلکہ دوسرے صحابہ کی طرح آپ بھی اکیلے اپنے کام میں مشغول رہتے تھے ایسے اوقات میں دشمن کو جس قدر دکھ پہنچانے کے مواقع مل سکتے ہیں وہ ایک واقف کار انسان کی نظروں سے پوشیدہ نہیں ہو سکتے۔جو انسان ایک ہی وقت میں اپنے ملک کے ہر طبقہ کے انسانوں اور ہر فرقہ کے پیروؤں سے خصوصا اور باقی دنیا سے عموما جنگ شروع کر چکا ہو اور ان کے عقائد اور خیالات کو مٹا کر ان کی جگہ اپنی لائی ہوئی تعلیم کو پھیلانے میں کوشاں ہو۔اس سے دیگر مذاہب اور مخالف امراء کے پیروؤں اور متبعین کو جو کچھ بھی عداوت ہو کم ہے اور وہ ہر ممکن سے ممکن ذرائع سے اسے تکالیف پہنچانے کی کوشش کریں گے اور خصوصا انہیں معلوم ہو کہ جس شخص کو ایذاء پہنچا نا انہیں مقصود ہے وہ بغیر کسی نگرانی یا پہرہ کے گلیوں اور میدانوں میں تن تنہا چلتا پھرتا انہیں مل سکتا ہے۔(186)