سیرت النبی ؐ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 187 of 266

سیرت النبی ؐ — Page 187

آپ کے مخالفین نے ان حالات سے فائدہ اٹھانے کے لئے جو تدابیر کیں ان سے بحیثیت مجموعی مجھے غرض نہیں۔میں صرف بخاری کی روایات سے کچھ واقعات اس سیرت میں بیاں کر رہا ہوں جن سے آپ کے اخلاق پر روشنی پڑتی ہے اس لئے صرف ایک ایسا واقعہ جس سے معلوم ہو سکے گا کہ کس طرح آپ کی جان پر اچانک حملہ کیا گیا اور آپ نے اس وقت اپنے ہوش و حواس کو کس طرح بیجار کھا۔اس جگہ بیان کرتا ہوں۔عَنْ جَابِرٍ بِنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَخْبَرَهُ أَنَّهُ غَزَامَعَ رَسُوْلِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قِبَلَ نَجْدٍ فَلَمَّا قَفَلَ رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَفَلَ مَعَهُ ، فَادْرَكَتْهُمُ الْقَائِلَةُ فِي وَادٍ كَثِيرِ الْعِضَاءِ، فَنَزَلَ رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَتَفَرَقَ النَّاسُ فِي الْعِضَاءِ يَسْتَظِلُوْنَ بِالشَّجَرِ وَنَزَلَ رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَحْتَ سَمْرَةٍ فَعَلَّقَ بِهَا سَيْفَهُ، قَالَ جَابِرَ فَنِمْنَا نَوْمَةً ثُمَّ إِذَا رَسُوْلَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْعُوْنَا فَجِئْنَاهُ فَإِذَا عِنْدَهُ أَعْرَابِيْ جَالِسٌ فَقَالَ رَسُوْلَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ هَذَا اخْتَرَطَ سَيْفِيْ وَأَنَا نَائِمْ فَاسْتَيْقَظْتُ وَهُوَ فِي يَدِهِ سَلْتَا فَقَالَ لِيْ مَنْ يَمْنَعُكَ مِنِّي ، قُلْتُ اللَّهُ، فَهَا هُوَ زَاجَالِسَ ثُمَّ لَمْ يُعَاقِبَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ( بخاری کتاب المغازی باب غزوة ذات الرقاع ) جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ وہ رسول اللہ صلی یتیم کے ساتھ مسجد کی جانب ایک غزوہ میں شریک ہوئے اور جب آپ سفر سے لوٹے۔تو آپ بھی حضور کے ساتھ لوٹے راستہ میں لشکر ایک ایسی وادی میں جو کانٹے دار درختوں سے پر تھی دو پہر کے وقت گزرا۔پس رسول اللہ صلیم وہاں اتر پڑے اور آپ کے ساتھی ادھر ادھر درختوں میں پھیل گئے اور درختوں کے سائے میں آرام کرنے لگے۔آنحضرت سلی یا یہ تم بھی ایک کیکر کے درخت کے نیچے ٹھہر گئے اور اپنی تلوار اس درخت سے لٹکا دی۔جابر فرماتے ہیں کہ ہم تھوڑی دیر سو گئے پھر اچانک آنحضرت کی آواز آئی کہ آپ ہمیں بلاتے ہیں پس (187)