سیرت النبی ؐ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 164 of 266

سیرت النبی ؐ — Page 164

تھے تو دوسری طرف طیب اشیاء کے استعمال سے بھی قطعاً اجتناب نہ فرماتے تھے۔وفات تک آپ کا یہی حال رہا:- اس حدیث سے تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ کبھی ایسی بات بھی ہو جاتی تھی کہ دو ماہ تک آگ نہ جلے مگر اب میں ایک اور حدیث درج کرتا ہوں جس سے معلوم ہوگا کہ یہ واقعہ چند مہینوں یا سالوں کا نہیں بلکہ آپ کی وفات تک یہی ہوتا رہا اور صرف چند ماہ تک آپ نے اس مشقت کو برداشت نہیں کیا بلکہ آپ ہمیشہ اس سادگی کی زندگی کے عادی رہے اور عسر ویسر ایک سا حال رہا۔اگر ابتداء عہد میں کہ آپ دشمنوں کے نرغہ میں گھرے ہوئے تھے اور آپ کو اپنا وطن تک چھوڑنا پڑا تھا آپ اس سادگی سے بسر کرتے تھے تو اس وقت بھی جبکہ روپیہ آپ کے پاس آتا اور آپ ایک ملک کے بادشاہ ہو گئے تھے آپ اسی سادگی سے بسر اوقات کرتے اور کھانے پینے کی طرف زیادہ توجہ نہ فرماتے تھے۔حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ انهَ مَرَ بِقَوْمٍ بَيْنَ أَيْدِيْهِمْ شَاةً مَصْلِيَةً فَدَعَوْهُ فَأَبَى أَنْ يَأْكُلَ قَالَ خَرَجَ رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَصَلَّمَ مِنَ الدُّنْيَا وَلَمْ يَشْبَعْ مِنْ خَبْزِ الشَّعِيرِ (بخارى کتاب الاطعمۃ باب ما كان النبی ﷺ و اصحابه یا کلون) یعنی حضرت ابو ہریرہ ایک جماعت پر گزرے اور اس کے سامنے ایک بھنی ہوئی بکری پڑی ہوئی تھی پس انہوں نے آپ کو بھی بلا یا مگر آپ نے کھانے سے انکار کیا اور کہا کہ رسول اللہ صلی ہیں یہ تم اس دنیا سے گزر گئے اور آپ نے پیٹ بھر کر جو کی روٹی نہیں کھائی (اس لئے میں بھی ایسی چیزیں نہیں کھاتا ) اس حدیث سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ ایک دو دن نہیں بلکہ وفات تک آنحضرت نے ایسی ہی سادہ زندگی بسر کی۔اس بات کی تصدیق حضرت عائشہ بھی فرماتی ہیں۔آپ سے روایت ہے کہ ما شبع (164