سیرت النبی ؐ — Page 163
آنحضرت سال شاتم کے گھر میں آگ نہ جلتی تھی۔حضرت عروہ فرماتے ہیں کہ میں نے کہا اے خالہ پھر آپ لوگ کیا کھاتے تھے۔حضرت عائشہ نے جواب دیا کہ اسؤ دَانِ یعنی کھجور اور پانی کھا کر گزارہ کیا کرتے تھے۔ہاں اتنی بات تھی کہ رسول اللہ صلی اسلام کے اردگرد انصار ہمسایہ تھے اور ان کے پاس دودھ والی بکریاں تھیں وہ آپ کو ان کا دودھ ہدیہ کے طور پر دیا کرتے تھے اور آپ دودھ ہمیں پلا دیا کرتے تھے۔اللہ اللہ کیسی سادہ زندگی ہے کہ دو دو ماہ تک آگ ہی نہیں جلتی اور صرف کھجور اور پانی یا دودھ پر گزارہ ہوتا ہے اس طریق عمل کو دیکھ کر مسلمانوں کوشر ما نا چاہیئے کیونکہ آجکل اسی اکل و شرب کی مرض میں گرفتار ہیں۔اگر پوری طرح تحقیقات کی جائے تو مسلمانوں کا روپیہ کھانے پینے میں ہی خرچ ہو جاتا ہے اور وہ مقروض رہتے ہیں۔وہ اس نبی کی امت ہیں جو مقتدر ہو کر پھر سادہ زندگی بسر کرتا تھا پھر کیسے افسوس کی بات ہے کہ ان کے پاس نہیں ہوتا اور وہ زبان کے چسکے کو پورا کرنے کے لئے قرض لے کر اپنے آپ کو مصیبت میں ڈالتے ہیں۔اگر وہ اپنے آپ کو آنحضرت کے اسوہ حسنہ پر چلاتے اور اسراف سے مجتنب رہتے تو آج اس بدتر حال کو نہ پہنچتے۔اس جگہ یہ بھی یادر کھنے کے قابل ہے کہ آنحضرت اگر ایک طرف سادگی کا نمونہ تھے تو دوسری طرف رہبانیت کو بھی ناپسند فرماتے تھے۔اور اگر اعلیٰ سے اعلیٰ غذا آپ کے سامنے پیش کی جاتی تھی تو اسے بھی استعمال فرماتے تھے اور یہ نہیں کہ نفس کشی کے خیال سے اعلیٰ غذاؤں سے انکار کر دیں اور یہی کمال ہے جو آپ کو دوسرے لوگوں پر فضیلت دیتا ہے کیونکہ آپ کل دنیا کے لئے آئے تھے نہ کہ صرف کسی خاص قوم یا خاص گروہ کے لئے اس لئے آپ کا ہر قسم کی خوبی میں کامل ہونا ضروری تھا اور اگر آپ ایک طرف سادہ زندگی میں کمال رکھتے 163