سیرت النبی ؐ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 103 of 266

سیرت النبی ؐ — Page 103

اس وقت جس بات کی طرف خاص طور سے میں آپ کو متوجہ کرنا چاہتا ہوں وہ بدی سے نفرت ہے۔اعمال بد تو انتہائی درجہ ہے ادنی درجہ تو بد اخلاقی اور بد کلامی ہے جس کا انسان مرتکب ہوتا ہے اور جب اس پر دلیر ہو جاتا ہے تو پھر اور زیادہ جرات کرتا ہے اور بداعمال کی طرف راغب ہوتا ہے لیکن جو شخص ابتدائی نقائص سے ہی پاک ہو وہ دوسرے سخت ترین نقائص اور کمزوریوں میں کب مبتلا ہو سکتا ہے اور میں انشاء اللہ تعالیٰ آگے جو کچھ بیان کروں گا اس سے معلوم ہو جائے گا کہ آپ کیسے پاک تھے اور کس طرح ہر ایک نیکی میں آپ دوسرے بنی نوع پر فائق و برتر تھے۔حضرت عبد اللہ بن عمر و فرماتے ہیں لَمْ يَكُنِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاحِشًا وَلَا مُتَفَحِشًا وَ كَانَ يَقُوْلُ إِنَّ مِنْ خِيَارِكُمْ أَحْسَنَكُمْ اَخْلَاقًا ( بخاری کتاب المناقب باب صفة النبي ) نبی کریم سالی یہ کام نہ بدخلق تھے نہ بدگو اور فرمایا کرتے تھے کہ تم میں بہتر وہی ہیں جو تم سے اخلاق میں افضل ہوں۔اللہ اللہ کیا پاک وجود تھا۔آپ حسن اخلاق برتتے تب لوگوں کو نصیحت کرتے۔آپ بد کلامی سے بچتے تب دوسروں کو بھی اس سے بچنے کے لئے حکم دیتے اور یہی وہ کمال ہے کہ جس کے حاصل ہونے کے بعد انسان کامل ہو سکتا ہے اور اس کی زبان میں اثر پیدا ہوتا ہے اب لوگ چلا چلا کر مر جاتے ہیں کوئی سنتا ہی نہیں۔نہ ان کے کلام میں اثر ہوتا ہے نہ کوشش میں برکت۔اس کی وجہ یہی ہے کہ وہ خود عامل نہیں ہوتے لوگوں کو کہتے ہیں مگر رسول کریم خود عامل ہو کر لوگوں کو تبلیغ کرتے جس کی وجہ سے آپ کے کلام میں وہ تاثیر تھی کہ تیس سال میں لاکھوں آدمیوں کو اپنے رنگ میں رنگین کر لیا۔(103)