سیرت النبی ؐ — Page 77
ایک اور بات بھی یادرکھنے کے قابل ہے کہ آپ اگر چاہتے تو اس وقت مسیلمہ کو پکڑا کر مروادیتے کیونکہ گو وہ ایک کیثر جماعت کے ساتھ آیا تھا مگر پھر بھی مدینہ میں تھا اور آپ کے ہاتھ کے نیچے لیکن اس معاملہ میں بھی آپ نے اللہ تعالیٰ پر توکل کیا کہ وہ خود اس موذی کو ہلاک کرے گا۔اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ وَبَارِكَ وَسَلَّمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَّجِيدٌ۔اخلاص یا اللہ۔یا دالبی خدا تعالیٰ کے ذکر پر آپ کو جوش آجاتا :- رسول کریم کی عادت تھی کہ بہت آرام اور آہستگی سے کلام کرتے تھے اور آپ کے کلام میں جوش نہ ہوتا تھا بلکہ بہت سہولت ہوتی تھی لیکن آپ کی یہ بھی عادت تھی کہ جہاں خدا تعالیٰ کا ذکر آتا آپ کو جوش آجا تا اور آپ کی عبارت میں ایک خاص شان پیدا ہو جاتی تھی۔چنانچہ احادیث کے پڑھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ کے ذکر کے آتے ہی آپ کو جوش آجاتا تھا اور آپ کے لفظ لفظ سے معلوم ہوتا تھا کہ عشق الہی کا دریا آپ کے اندر لہریں مار رہا ہے آپ کے کلام کو پڑھ کر محبت کی ایسی لپٹیں آتیں کہ پڑھنے والے کا دماغ معطر ہو جاتا۔اللہ اللہ آپ صحابہ میں بیٹھ کر کسی پیار سے باتیں کرتے ہیں ان کی دلجوئی کرتے ہیں انکی شکایات کو سنتے ہیں۔پھر صحابہ ہی کا کیا ذکر ہے کافر ومؤمن آپ کی ہمدردی سے فائدہ اٹھا رہا ہے اور ہر ایک تکلیف میں آپ مہربان باپ اور محبت کرنے والی ماں سے زیادہ ہمدرد ومہربان ثابت ہوتے ہیں۔لیکن اللہ تعالیٰ کے معاملہ میں جہاں اس کا 77