سیرت النبی ؐ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 58 of 266

سیرت النبی ؐ — Page 58

ہم ایک دن بیٹھے ہوئے تھے کہ عین دو پہر کے وقت رسول کریم تشریف لائے اور سر لپیٹا ہوا تھا۔آپ اس وقت کبھی نہیں آیا کرتے تھے۔حضرت ابوبکر نے فرمایا میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں آپ اس وقت کسی بڑے کام کے لئے آئے ہوں گے۔عائشہ فرماتی ہیں کہ رسول کریم نے اجازت مانگی اور اجازت ملنے پر گھر میں آئے اور فرمایا کہ جو لوگ بیٹھے ہیں ان کو اٹھا دو۔حضرت ابوبکر نے عرض کیا یا رسول اللہ مجھے قسم ہے کہ وہ آپ کے رشتہ دار ہیں۔آپ نے فرمایا اچھا مجھے ہجرت کا حکم ہوا ہے۔حضرت ابوبکر نے عرض کیا یا رسول اللہ مجھے بھی ساتھ ہی جانے کی اجازت دیجئے رسول کریم نے فرمایا بہت اچھا۔اس واقعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ اس وقت تک مکہ سے نہیں نکلے جب تک حکم نہ ہوا اور آخر وقت تک اس بات پر قائم رہے کہ خدا تعالیٰ کے حکم کے بغیر کوئی کام نہیں کرنا۔کیسا ایمان، کیسا یقین کیسا پاک تعلق ہے فِدَاكَ آبِی وَ أَمِي يَا رَسُولَ اللَّهِ 58 58