سیرت النبی ؐ — Page 59
واقعہ ہجرت:- اخلاص باللہ۔تو کل علی اللہ واقعہ ہجرت بھی ایک عجیب ہولناک واقعہ ہے۔سارا عرب مخالف اور خون کا پیاسا تھا مگر رسول کریم صرف ایک ساتھی لے کر مدینہ کی طرف چل پڑے۔راستہ میں تمام وہ قومیں آباد تھیں جو مذہب کی مخالفت کی وجہ سے آپ کو مارنے کی فکر میں رہتی تھیں اور صرف قریش کے ڈر کے مارے خاموش تھیں لیکن اب وہ وقت آگیا تھا کہ جب قریش خود آپ کے قتل کے درپے تھے اور کل قبائل عرب کو تسلی تھی کہ اگر ہم نے اس شخص کو قتل کر دیا تو قریش کو ناراضگی کی کوئی وجہ نہ ہوگی۔اور صرف یہی نہیں کہ قریش کی مخالفت کا خوف نہ رہا تھا بلکہ قریش نے رسول کریم صلی سیم کومکہ سے غیر حاضر دیکھ کر آپ کے قتل پر انعام مقرر کر دیا تھا اور مدینہ کے راستہ میں جس قدر قبائل آباد تھے انہیں یہ اطلاع دے دی تھی کہ جو شخص رسول کریم اور حضرت ابوبکر کو زندہ یا مردہ لے آئے گا اسے سوسو اونٹ فی کس انعام ملے گا۔عرب کے قبائل جن کی زندگی ہی لوٹ مار پر بسر ہوتی تھی اور جو آتش حسد سے پہلے ہی جل بھن کر کوئلہ ہور ہے تھے اس موقع کو کب ہاتھ سے جانے دے سکتے تھے ہر طرف آپ کی تلاش شروع ہوئی اور گو یا ہر قدم پر جو آپ اُٹھاتے خوف تھا کہ کسی خون کے پیاسے دشمن سے پالا پڑے گا ایسے موقع پر اکثر دیکھا گیا ہے کہ بہادر سے بہادر انسان بھی دل ہار بیٹھتا ہے اور آخری جدو جہد سے بھی محروم ہو جا تا ہے اور اگر نہایت دلیر اور خلاف معمول کوئی نہایت قوی دل انسان بھی ہو تو اس پر بھی خوف ایسا مستولی ہو جاتا ہے کہ اس کی ہر ایک 59