سیرت النبی ؐ — Page 47
ہے۔خیر تبوک کے واقعہ کے وقت میرا یہ حال تھا کہ میں نسبتا زیادہ مضبوط اور سامان والا تھا اور کسی جنگ کے وقت میرے پاس دوسواری کی اونٹنیاں اکٹھی نہیں ہو ئیں مگر اس وقت میرے پاس دو اونٹنیاں موجود تھیں۔رسول کریم صلی سیتم کی عادت تھی کہ جب جنگ کو جاتے تو اپنی منزل مقصود کو ظاہر نہ کرتے تھے لیکن اس دفعہ چونکہ گرمی سخت تھی اور سفر دور کا تھا اور راستہ میں غیر آباد جنگل تھے اور بہت سے دشمنوں سے پالا پڑنا تھا اس لئے آپ نے مسلمانوں کو خوب کھول کر بتا دیا تا کہ وہ جنگ کے لئے تیار ہو جائیں اور وہ طرف بھی بتادی جس طرف جانے کا ارادہ تھا۔اس وقت مسلمان بہت ہو چکے تھے اور ان کا رجسٹر کوئی نہ تھا اس لئے جو لوگ اس لڑائی میں غیر حاضر رہنا چاہتے تھے وہ سمجھتے تھے کہ جب تک رسول کریم کو وحی نہ ہو ان کا غیر حاضر رہنا مخفی ہی رہے گا اور موسم کا یہ حال تھا کہ وہ میوہ پک چکا تھا اور سایہ بھلا معلوم ہوتا تھا۔غرض کہ رسول کریم مالی شمالی تم نے اور مسلمانوں نے جنگ کی تیاری شروع کی اور میں بھی ہر صبح جنگ کی تیاری کے مکمل کرنے کے لئے نکالتا میں بھی ان کے ساتھ تیار ہو جاؤں مگر پھر لوٹ آتا اور کچھ کام نہ کرتا اسی طرح دن گزرتے رہے اور لوگوں نے محنت سے سامان سفر تیار کر لیا یہاں تک کہ رسول کریم اور مسلمان ایک صبح روانہ بھی ہو گئے اور ابھی میں نا تیار تھا پھر میں نے کہا کہ اب میں ایک دو دن میں تیاری کر کے آپ سے جاملوں گا۔ان کے جانے کے بعد دوسرے دن بھی میں گیا مگر بغیر تیاری کے واپس آ گیا اور اسی طرح تیسرے دن بھی میرا یہی حال رہا اور ادھر لشکر جلدی جلدی آگے نکل گیا۔میں نے کئی بار ارادہ کیا کہ جاؤں اور ان سے مل جاؤں اور کاش میں ایسا ہی کرتا مگر مجھ سے ایسا نہ ہو سکا۔پھر جب رسول کریم کے جانے کے بعد میں باہر نکلتا اور لوگوں میں پھرتا تو مجھے یہ بات دیکھ کر سخت صدمہ ہوتا کہ جولوگ پیچھے رہ گئے تھے یا تو وہ تھے جو منافق سمجھے 47