سیرت النبی ؐ — Page 48
جاتے تھے یا وہ ضعفاء جن کو خدا نے معذور رکھا تھا رسول کریم صلی یا تم نے اس وقت تک مجھے یاد نہیں کیا جب تک کہ تبوک نہ پہنچ گئے۔وہاں آپ نے پوچھا کہ کعب بن مالک کہاں ہے؟ سلمہ کے ایک آدمی (عبد اللہ بن انہیں ) نے عرض کیا یا رسول اللہ وہ اپنے حسن و جمال یا لباس کی خوبی) پر اترا کر رہ گیا ( آپ کے ساتھ نہیں آیا ) یہ سن کر معاذ بن جبل نے کہا تو نے بری بات کہی خدا کی قسم یا رسول اللہ ہم تو اس کو سچا آدمی (سچا مسلمان ) سمجھتے ہیں۔آنحضرت معہ خاموش ہو رہے۔کعب بن مالک" کہتے ہیں کہ جب یہ خبر آئی کہ آنحضرت سایتم تبوک سے لوٹے آرہے ہیں تو میرا غم تازہ ہو گیا۔جھوٹے جھوٹے خیال دل میں آنے لگے ( یہ عذر کروں وہ عذر کروں) مجھ کو یہ فکر ہوئی کعب اب کل آپ کے غصے سے تو کیونکر بچے گا میں نے اپنے عزیزوں میں سے جو جو عقل والے تھے ان سے بھی مشورہ لیا۔جب یہ خبر آئی کہ آپ مدینہ کے قریب آن پہنچے اس وقت سارے جھوٹے خیالات میرے دل سے مٹ گئے اور میں نے یہ سمجھ لیا کہ جھوٹی باتیں بنا کر میں آپ کے غصے سے بچنے والا نہیں۔اب میں نے یہ ٹھان لیا ( جو ہونا ہو وہ ہو ) میں تو سچ سچ کہہ دوں گا خیر صبح کے وقت آپ مدینہ میں داخل ہوئے آپ کی عادت تھی جب سفر سے تشریف لاتے تو پہلے مسجد میں جاتے وہاں ایک دوگانہ ادا فرماتے ( آپ نے مسجد میں دوگانہ ادا فرمایا ) پھر لوگوں سے ملنے کے لئے بیٹھے اب جو جو ( منافق ) لوگ پیچھے رہ گئے تھے انہوں نے آنا شروع کیا اور لگے اپنے اپنے عذر بیان کرنے اور قسمیں کھانے۔ایسے لوگ اسی (۸۰) سے کچھ اوپر تھے آپ نے ظاہر میں ان کا عذر مان لیا ان سے بیعت لی ان کے واسطے دعا کی ان کے دلوں کے بھید کو خدا پر رکھا۔کعب کہتے ہیں میں بھی آیا میں نے جب آپ کو سلام کیا تو آپ مسکرائے مگر جیسے غصے میں کوئی آدمی مسکراتا ہے پھر فرمایا آؤ میں گیا۔آپ کے سامنے بیٹھ گیا 48