سیرت النبی ؐ — Page 31
رسول کریم اللہ تعالیٰ کے فضل سے گناہوں سے پاک تھے نہ صرف اس لئے کہ انبیاء کی جماعت مغضوم عَنِ الْإِثْمِ وَالْجزم ہوتی ہے بلکہ اس لئے بھی کہ انبیاء میں سے بھی آپ سب کے سردار اور سب سے افضل تھے آپ کا اس طرح استغفار اور تو بہ کرنا بتا تا ہے کہ خشیت الہی آپ پر اس قدر غالب تھی کہ آپ اس کے جلال کو دیکھ کر بے اختیار اس کے حضور میں گر جاتے کہ انسان سے کمزوری ہو جانی ممکن ہے تو مجھ پر اپنا فضل ہی کر۔وہاں تو یہ خشیت تھی اور یہاں یہ حال ہے کہ ہم لوگ ہزاروں قسم کے گناہ کر کے بھی استغفار وتو بہ میں کوتاہی کرتے ہیں اَسْتَغْفِرُ اللَّهَ رَبِّي مِنْ كُلِّ ذَنْبٍ وَاَتُوْبُ إِلَيْهِ موت کا خیال:- آنحضرت سلی یا پیام موت سے کسی وقت غافل نہ رہتے اور خشیت الہی آپ پر اس قدر غالب تھی کہ ہر روز یہ یقین کر کے سوتے کہ شاید آج ہی موت آجاوے اور آج ہی اللہ تعالیٰ کے حضور حاضر ہونا پڑے اور اس لئے آپ ایک ایسے مسافر کی طرح رہتے تھے جسے خیال ہوتا ہے کہ ریل اب چلی کہ چلی وہ کبھی اپنے آپ کو ایسے کام میں نہیں پھنسا تا کہ جسے چھوڑنا مشکل ہو۔آپ بھی ہر وقت اپنے محبوب کے پاس جانے کیلئے تیار رہتے اور جو دم گزرتا اسے اس کے فضل کا نتیجہ سمجھتے اور موت کو یاد رکھتے۔حذیفہ بن الیمان فرماتے ہیں گان النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَ أَخَذَ مَضْجَعَهُ مِنَ اللَّيْلِ وَضَعَ يَدَهُ تَحْتَ حَدِهِ ثُمَّ يَقُوْلُ اللَّهُم بِا سْمِكَ اَمُوْتُ وَأَحْيَا وَاذَا قَامَ قَالَ الْحَمْدُ لِلهِ الَّذِيْ أَحْيَا نَا بَعْدَ مَا أَمَا تَنَا وَآلِيْهِ النُّشُورُ (بخاری کتاب الدعوات باب وضع اليد تحت الخد اليمن) رسول کریم کی عادت تھی کہ جب آپ اپنے بستر پر لیٹتے اپنے رخسار کے نیچے اپنا ہاتھ رکھتے اور فرماتے اے میرے مولا میرا مرنا اور جینا تیرے ہی نام پر ہو اور جب سو کر اٹھتے تو فرماتے شکر ہے میرے رب کا جس نے ہمیں زندہ 31