سیرت النبی ؐ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 30 of 266

سیرت النبی ؐ — Page 30

مجھے گندہ جانتے ہیں کیا میں گناہ گار ہوں کہ آپ مجھے نیکی اور تقویٰ اور استغفار کے لئے کہتے ہیں میں یہ بات سنکر حیران ہوگیا کہ یہ اللہ تعالیٰ کی قدرتوں سے اتنا ناواقف ہے اور اس کے جلال سے اتنا بے خبر ہے کہ اسے اتنی بھی نہیں سمجھے کہ اس بادشاہ سے انسان کو کیسا خائف رہنا چاہیئے دنیا وی بادشاہوں کے مقربین کو ہم دیکھتے ہیں کہ ان کی خدمت وخوشامد کے باوجود بھی ان سے یہی عرض کرتے رہتے ہیں کہ اگر کچھ قصور ہو گیا ہو تو عفوفر ما ئیں۔بے شک بہت سے لوگ حتی المقدور نیکی کا خیال رکھتے ہیں مگر پھر بھی انسان سے خطا کا ہو جانا کچھ تعجب کی بات نہیں۔رسول کریم کو دیکھو کیسی معرفت تھی، کیسی احتیاط تھی ، کس طرح خدا تعالیٰ سے خائف رہتے تھے اور باوجود اس کے کہ تمام انسانوں سے زیادہ آپ کامل تھے اور ہر قسم کے گناہوں سے آپ پاک تھے۔خود اللہ تعالیٰ آپ کا محافظ و نگہبان تھا مگر باوجود اس تقدیس اور پاکیزگی کے یہ حال تھا کہ ہر وقت اللہ تعالیٰ سے خائف رہتے نیکی پر نیکی کرتے ، اعلیٰ سے اعلیٰ اعمال بجالاتے ، ہر وقت عبادت الہیہ میں مشغول رہتے مگر باوجود اس کے ڈرتے اور بہت ڈرتے۔اپنی طرف سے جس قدر ممکن ہے احتیاط کرتے مگر خدا تعالیٰ کے غناء کی طرف نظر فرماتے اور اس کے جلال کو دیکھتے تو اس بارگاہ صمدیت میں اپنے سب اعمال سے دستبر دار ہو جاتے اور استغفار کرتے اور جب موقع ہوتا تو بہ کرتے۔حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُوْلُ وَاللَّهِ إِنِّيَ لَاسْتَغْفِرُ اللَّهَ وَاَتُوْبُ إِلَيْهِ فِي الْيَوْمِ أَكْثَرَ مِنْ سَبْعِينَ مَرَّة ) بخاری کتاب الدعوات باب استغفار النبي ) میں نے آنحضرت سالی یا تم کو فرماتے سنا ہے کہ خدا کی قسم میں دن میں ستر دفعہ سے زیادہ خدا تعالیٰ کے حضور میں اپنی کمزوریوں سے عفو کی درخواست کرتا ہوں اور اس کی صلى الله عَ طرف جھک جاتا ہوں۔رض 30